واشنگٹن (3 نومبر 2026): دنیا کی نظریں آج امریکا میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن پر لگی ہے یہاں مڈٹرم الیکشن تاریخ کے چند مضحکہ خیز اور دلچسپ حقائق جانیں۔آج امریکا میں مڈ ٹرم الیکشن ہو رہے ہیں۔ یہ الیکشن ملک کی تاریخ میں 120 ویں کانگریس کا تعین کریں گی کہ کس کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔امریکی عوام ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں گے، اس کے علاوہ سینیٹ کے 100 میں سے 35 ارکان کا انتخاب بھی کریں گے۔پولنگ ابھی جاری ہے، لیکن ہم یہاں آپ کو امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ہونے والے مضحکہ خیز اور دلچسپ حقائق بتائیں گے، جس سے شاید دنیا کی اکثریت آگاہ نہیں۔1۔ موت کے بعد امیدوار کی کامیابی، رکن کانگریس منتخب:امریکا کی تاریخ میں 1836 کو ایسے مڈ ٹرم الیکشن بھی ہوئے، جس میں ایک امیدوار کو اس کی موت کے بعد رکن کانگریس منتخب کیا گیا۔یہ امیدوار جان کوفی تھے، جو اپنے سیاسی کیریئر میں کوفی 1819 سے 1827 تک جارجیا کی ریاستی سینیٹ کے رکن رہے۔ اس کے بعد 1833 میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بنے۔اینڈریو جیکسن کے حامی کے طور پر شہرت پانے والے جان کوفی 25 ستمبر 1836 کو انتقال کر گئے۔ وہ اپنے فارم میں مردہ پائے گئے۔ جس وقت ان کی موت ہوئی، وہ قانون ساز انتخابات میں ڈیموکریٹ کے امیدوار تھے۔اس دور میں اطلاعات تک رسائی کے تیز ذرائع نہ ہونے کے باعث ان کے انتقال کی خبر دیر سے پہنچی، جس کی وجہ سے اسی سال اکتوبر کے آغاز میں ہونے والے الیکشن میں وہ جارجیا کی جانب سے دوبارہ رکن منتخب ہو گئے۔تاہم ان کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد ان کی یہ نشست ولیم ڈاسن کو دے دی گئی تھی۔2۔ بیلٹ پیپر پر نام نہ ہونے کے باوجود امیدوار کامیاب:الیکشن کہیں بھی ہو۔ متعلقہ حلقے کے تمام امیدواروں کا نام اور انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر ہوتا ہے۔ ووٹر اپنی پسند کے امیدوار پر مہر ثبت کر کے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن امریکا ایک مڈ ٹرم الیکشن ایسے بھی ہوئے، جس میں امیدوار نے اپنا نام بیلٹ پیپر پر چھپا نہ ہونے کے باوجود کامیابی حاصل کی۔یہ انوکھا الیکشن 1930 میں ہوا اور منفرد جیت حاصل کرنے والے امیدوار چارلس فارسٹ کوری جونیئر تھے۔ہوا کچھ یوں کہ امریکی ایوان نمائندگان کے انتخاب کے لیے 1930 میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں ایک امیدوار چارلس فارسٹ کوری جونیئر کا نام اور انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر چھپنے سے رہ گیا۔چارلس جونیئر جنہیں ان کے والد فارسٹ کوری کے انتقال کے بعد نامزدگی ملی تھی۔ تاہم پولنگ والے دن جب ووٹرز کے سامنے بیلٹ پیپر آیا تو اس میں چالس فارسٹ کوری جونیئر کا نام نہیں تھا۔تاہم ووٹرز نے اس موقع پر منفرد انداز میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا اور بیلٹ پیپرز پر چارلس کوری جونیئر کا نام اپنے ہاتھ سے لکھا۔ نتائج کا اعلان ہوا تو چارلس جونیئر کا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں تھا۔3۔ ایک امیدوار جس نے امریکی کانگریس میں 2 مختلف ریاستوں کی نمائندگی کی:امریکی کانگریس کے انتخاب میں امیدوار کتنی بار منتخب ہو، وہ ہمیشہ ایک ہی ریاست سے الیکشن لڑتا ہے۔ تاہم امریکی آزادی کے ابتدائی سالوں میں ایک ایسا امیدوار بھی سامنے آیا، جس نے اپنی سیاسی زندگی میں کانگریس میں دو مختلف ریاستوں سے کامیابی حاصل کی۔یہ سیاستدان امریکی جنگ آزادی میں حصہ لینے والے ڈینیئل ہیسٹر تھے، جنہوں نے امریکا کی آزادی کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا اور ریاست پنسلوانیا سے 1780 سے 1792 تک مسلسل 4 بار کانگریس رکن منتخب ہوئے اور 1796 کو اپنے استعفے تک منصب پر برقرار رہے۔صدر جارج واشنگٹن انتظامیہ کی مخالفت کے لیے مشہور ڈینیئل ہیسٹر اس کے بعد ریاست میری لینڈ منتقل ہو گئے اور اس ریاست سے بھی دو بار الیکشن لڑ کر رکن کانگریس منتخب ہوتے رہے۔4۔ وہ رکن جس نے کانگریس میں رہتے ہوئے متعدد پارٹیاں بدلیں:ناسیانیئل بینکس نے پہلی بار 1853 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ریاست میساچوسٹس سے مڈ ٹرم الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور 33 ویں کانگریس کے مجلس نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔1853 میں انہوں نے امریکی پارٹی کی جانب سے اسی ریاست سے الیکشن لڑا اور اس کے بعد اُس وقت کی نئی قائم شدہ ریپبلکن پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے 35 ویں کانگریس میں واپس آئے اور 39 ویں کانگریس تک ری پبلکن پارٹی سے رکن کانگریس منتخب ہوتے رہے۔بعد ازاں 40 ویں کانگریس کے انتخاب میں وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن کے میدان میں اترے اور اس سے اگلے الیکشن میں پھر ری پبلکن میں شامل ہو گئے۔5۔ وہ مڈ ٹرم الیکشن جس نے امریکا کا راستہ بدل ڈالا:امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں سنہ 1874 میں ہوئے، جس نے امریکی سیاست کا دھارا بدل ڈالا۔ریپبلکن صدر یولیسس گرانٹ کے دور صدارت میں 1873 کے معاشی بحران کے اثرات اور کئی اسکینڈلز نے ای پبلکن کی شہرت کو داغ دار کیا، جس کا خمیازہ کانگریس کے چناؤ میں ری پبلکن کو بھگتنا پڑا۔الیکشن کے نتائج آئے تو ری پبلکنز نے ایوان نمائندگان میں 92 نشستیں کھو دیں تھی جب کہ تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار ڈیموکریٹس کو ایوان میں اکثریت حاصل ہوئی۔سنہ 1877 میں، سنہ 1876 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد جنوبی ریاستوں سے وفاقی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی اصلاحاتی مرحلہ سرکاری طور پر ختم ہو گیا۔6۔ کانگریس کی ساخت کو مکمل تبدیل کرنے والے مڈ ٹرم الیکشن:1894 کے وسط مدتی انتخابات ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر گروور کلیولینڈ کے دور صدارت میں ہوئے، جس میں ایوان نمائندگان میں وہ بڑی تبدیلی سامنے آئی جس نے کانگریس کی اندرونی ساخت کو مکمل الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ڈیموکریٹس نے ان الیکشن میں ریکارڈ 105 نشستیں ہار دیں جس کے بعد ان کی کانگریس میں نشستوں کی تعداد صرف 93 رہ گئی جب کہ حریف جماعت ری پبلکنز نے اپنی نشستوں میں 110 کا اضافہ کر کے مجموعی نشستوں کی تعداد 253 کر لیْآج ہونے والے الیکشنآج یعنی 3 نومبر 2026 کو ہونے والے الیکشن ری پبلکنز پارٹی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت میں ایسے مرحلے پر ہو رہے ہیں، جب ٹرمپ دوسری مدت کے انتخاب کے بعد اپنے متنازع اقدامات، بیانات، ایران جنگ، ملک میں تاریخی مہنگائی جیسے حالات کے باعث امریکا کی تاریخ میں سب سے کم مقبولیت رکھنے والے صدر بن گئے ہیں۔مڈٹرم الیکشن پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس الیکشن میں ڈیموکریٹ کو فیورٹ اور اکثریت حاصل کرتا دیکھ رہے ہیں۔