دہلی پولیس کے غیر معمولی احتجاجی مظاہرے میں ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والے اے سی پی منسوی وششٹھ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کے احتجاج کے درمیان یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اے سی پی منسوی وششٹھ نے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی تھی۔ 2 نومبر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے اے سی پی منسوی وششٹھ نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے مطالبات پولیس کمشنر کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم نے پولیس کمشنر صاحب سے رابطہ میٹنگ کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے ہماری بات مان لی، لیکن سبھی کو کھل کر اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ اس کے باوجود ہم نے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ وہ اس معاملے پر دیگر افسران سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘Delhi: Assistant Commissioner of Police (ACP) Manasvi Vashisht and other Delhi Police personnel gathered at Delhi Police Headquarters.ACP Manasvi Vashisht says, "We have placed our demands before the Police Commissioner. He provided us with the meeting that we had requested.… pic.twitter.com/eTBMDfDexT— IANS (@ians_india) November 2, 2026اے سی پی نے پیر کے روز اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے کچھ مطالبات ایسے ہیں، جنہیں 2 نومبر کو ہی پورا کیا جانا تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پولیس اہلکار دھرنے پر بیٹھے ہیں اور کہیں نہیں جائیں گے۔ وہ احتجاج کرنے نہیں، بلکہ رابطہ میٹنگ کرنے آئے تھے۔ میٹنگ ہو چکی ہے۔ اے سی پی منسوی وششٹھ نے بتایا تھا کہ انہوں نے سینئر پولیس افسران کے سامنے 5 مطالبات رکھے ہیں، جن کے بارے میں وہ تفصیلی معلومات نہیں دیں گے۔ جب تک پولیس کمشنر صاحب اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لے لیتے، وہ میڈیا کے سامنے کھل کر بات نہیں کریں گے۔ حالانکہ کچھ مطالبات ایک دن کے اندر پورے کیے جانے تھے۔ مطالبات منظور ہونے سے قبل ہی اے سی پی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منسوی وششٹھ نے کچھ اہم مطالبات سامنے رکھے ہیں، مثلاً:وکلا کے خلاف درج مقدمات واپس نہیں لیے جانے چاہئیں۔بار کونسل کے رکن کا نام مقدمے سے نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔پیر کے روز احتجاج میں شامل ہونے والے کسی بھی پولیس اہلکار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اے سی پی منسوی وششٹھ نے اپنے مطالبات میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’اگر محکمۂ پولیس معطلی سے لے کر کوئی اور سخت کارروائی کرنا چاہتا ہے تو وہ صرف میرے خلاف کرے۔‘‘ کم از کم ان کا یہ مطالبہ تو پورا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ فی الحال صرف ان کے خلاف ہی کارروائی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس کی تاریخ میں پہلی بار اعلیٰ افسران کے فیصلے کے خلاف پولیس اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ نعرے بازی کرنے والے 100 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو خاموش کرانے میں افسران کے پسینے چھوٹ گئے۔ یہ پولیس اہلکار اے سی پی منسوی وششٹھ کی قیادت میں متحد ہوئے تھے۔ منسوی وششٹھ کا نام حال ہی میں دہلی پولیس اور وکلاء کے درمیان ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے سرخیوں میں آیا ہے۔ منسوی وششٹھ دہلی پولیس میں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) کے عہدے پر تعینات ہیں۔ اکتوبر 2026 تک وہ شاہدرہ ضلع کے گاندھی نگر سب ڈویژن میں ایس ڈی پی او کے طور پر تعینات تھے۔ وہ ڈی اے این پی پولیس سروس کے افسر ہیں۔ اس کا مطلب دہلی، انڈمان اور نکوبار جزائر، لکشدیپ، دمن اور دیو اور دادرہ و نگر حویلی پولیس سروس ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈوکیٹ للت بنسل پر حملے کے بعد شاہدرہ تھانے میں پولیس کی کارروائی کو لے کر تنازعہ شروع ہوا۔ وکلا کا الزام تھا کہ معاملے میں ملزمین کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔ 23 اور 24 اکتوبر کو تھانے میں پولیس اہلکاروں اور وکلاء کے درمیان تصادم ہوا۔ اس دوران ایک وکیل کو شدید چوٹ آنے کی بات بھی سامنے آئی۔ دوسری جانب منسوی وششٹھ کی شکایت کی بنیاد پر وکلاء کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کی شکایت میں الزام لگایا گیا کہ تھانے آنے والے کچھ وکلا نے پولیس افسران کے ساتھ بدتمیزی کی، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی اور دھمکیاں دیں۔ اس طرح تنازعہ میں فریقین کی جانب سے الزامات سامنے آئے۔ تنازعہ کے بعد دہلی پولیس نے منسوی وششٹھ اور شاہدرہ تھانے کے اس وقت کے ایس ایچ او انسپکٹر ارون کمار کا تبادلہ کر دیا۔