امریکا کے وسط مدتی انتخابات! 5 کروڑ نوجوان ووٹرز کس کے حق میں ووٹ ڈالیں گے؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں تقریباً پانچ کروڑ نوجوان ووٹرز کی رائے اہمیت اختیار کرگئی کیونکہ یہ ووٹرز الیکشن کا رخ بدل سکتے ہیں۔امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات کے حوالے سے ووٹروں کے مختلف طبقات اور ان کے ترجیحی مسائل کا تجزیہ سامنے آیا، جس میں نوجوان ووٹرز، لاطینی برادری اور ایشیائی نژاد امریکیوں کا کردار انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی تحقیقی ادارے ‘سرکل’ نے بتایا کہ 18 سے 29 سال کے تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ نوجوان ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، ان میں سے تقریبا 47 فیصد نوجوان، نسلی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان اقلیتوں کو ٹرمپ کی بہت سی پالیسیوں پر شدید اعتراض ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی ان کو فعال کرنے میں کامیاب رہی تو یہ الیکشن کا رخ بدل سکتے ہیں۔ماضی کے (2022) مڈ ٹرم انتخابات میں سفید فام نوجوانوں کا ٹرن آؤٹ 29 فیصد، ایشیائیوں کا 21 فیصد اور سیاہ فام نوجوانوں کا 15 فیصد رہا تھا۔FOLLOW US ON ARY TUBEیوسی ایل اے کے ولیمز انسٹی ٹیوٹ کی سروے رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کے فیصلے صرف پارٹی وابستگی پر نہیں بلکہ مہنگائی، رہائشی اخراجات اور سستی طبی سہولیات پر مبصر ہیں۔پیو ریسرچ سینٹر کے سولہ اکتوبر کو جاری کردہ سروے میں بتایا گیا چھیاسی فیصد رجسٹرڈ لاطینی ووٹرز نے معیشت کو کانگریس کے انتخاب میں انتہائی اہم مسئلہ قرار دیا، جبکہ چونسٹھ فیصد نے امیگریشن کو اہم انتخابی معاملہ بتایا، اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ صدارتی الیکشن میں ان کے نصف ووٹ حاصل کیے تھے، لیکن موجودہ معاشی اور انتظامی پالیسیوں کی وجہ سے اب ان کے بعض سابق حامی الگ رائے رکھتے ہیں۔تارکین وطن خاندانوں اور ایشیائی نژاد امریکی کمیونٹیز کا ووٹنگ رجحان بھی اہمیت رکھتا ہے، امیگریشن قوانین، ویزوں، روزگار، کاروبار اور صحت کی سہولتوں سے متعلق فیصلے ان ووٹرز کے انتخابی رویوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔