تہران(2 نومبر 2026): ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ماضی کے واقعات سے سبق سیکھیں اور ایران کے خلاف کسی بھی نئی امریکی جنگ کی حمایت سے گریز کریں۔روسی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ دوست ممالک اب یہ بات اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے نہ صرف انہیں تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں بلکہ وہ خود اپنی حفاظت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث ان کی تصاویر جاری نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ ملک کے نئے سپریم لیڈر کی حیثیت سے تمام اُمور دیکھ رہے ہیں، تمام ریاستی فیصلے ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور وہ انتہائی متحرک انداز میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محتاط رہنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ ایران کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو اہم شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔خطے میں کشیدگی اور میزائل حملوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ صرف امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے پہلے ہی خطے کے ممالک کو آگاہ کر دیا تھا کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ممالک میں اگر کوئی ایرانی میزائل گرا ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوتی۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے خطے کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کو نئی جنگ سے روکنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اور جنگی جنون کو ہوا دینے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو فروغ دیں۔