(3 نومبر 2026): گزشتہ دنوں اسکول میں 8 سالہ بچے نے 6 سالہ بچی کو اینٹیں مار مار کر شدید زخمی کر دیا تھا پولیس نے پرنسپل اور عملے کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔یہ افسوسناک واقعہ چند روز قبل ہریانہ کے شہر پنچکولا کے ایک اسکول میں پیش آیا، جہاں ایک کلاس روم کے اندر 8 سالہ لڑکے نے 6 سالہ بچی پر بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے اس کے سر پر اینٹیں مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔پولیس نے واقعے کے چھٹے روز اسکول کے پرنسپل، کلاس انچارج اور چوکیدار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ یہ واقعہ اسکول انتظامیہ، پرنسپل، کلاس ٹیچر، دیگر عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی غفلت کے باعث پیش آیا۔شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اسکول کا وقت ختم ہونے کے باوجود زخمی بچی تقریباً دو گھنٹے تک اسی کمرے میں پڑی رہی۔اس واقعے سے متعلق نچکولا پولیس کی ڈپٹی کمشنر آف پولیس ادیتی سنگھ نے اپنے جاری ویڈیو بیان میں بتایا کہ زخمی طالبہ اسپتال میں زیر علاج اور اس وقت خطرے سے باہر ہے۔ڈی سی پی کے مطابق اس واقعے میں 8 سالہ کم عمر طالب علم ملوث ہے، جو اس وقت آبزرویشن سینٹر میں ہے۔ قانون کے تحت 8 سال کے بچے کو نہ سزا دی جا سکتی ہے اور نہ ہی جیل بھیجا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت ماہرین کی مدد سے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ کارروائی اسی جائزے کی بنیاد پر کی جائے گی۔ادیتی سنگھ کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں اسکول انتظامیہ کی غفلت سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے اسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 28 اکتوبر کو اسکول میں تیسری جماعت میں پڑھنے والے 8 سالہ طالب علم نے مبینہ طور پر پہلی منزل پر واقع ایک کمرے میں بچی پر اینٹوں سے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں بچی شدید زخمی ہو گئی تھی۔