اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا، پنجاب اور منی پور میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹرس کی تعداد میں 13.24 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ان 5 ریاستوں میں ووٹرس کی تعداد تقریباً 18.71 کروڑ تھی، جو گھٹ کر 16.43 کروڑ رہ گئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو تقریباً 2.29 کروڑ ووٹرس کم ہوئے ہیں، یہ تقریباً 12.2 فیصد کی گراوٹ ہے۔ ان 5 ریاستوں میں آئندہ سال کے آغاز میں اسمبلی انتخاب کرائے جائیں گے۔SIR Shrinks Voter Base By Up To 13.24% Across 5 Poll-Bound States, Over 2 Cr Names Cut; UP Sees Biggest Drop#SIR #UP https://t.co/f2Guqs57mO— ABP LIVE (@abplive) November 3, 2026حال ہی میں الیکشن کمیشن اور ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسران کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان 5 ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد ووٹرس کی تعداد تقریباً 18.71 کروڑ سے گھٹ کر 16.43 کروڑ رہ گئی ہے۔ ان ریاستوں میں سب سے زیادہ اثر اتر پردیش میں دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں مجموعی کمی کا تقریباً 90 فیصد حصہ ہے۔ اتر پردیش میں ایس آئی آر کا کام دوسرے مرحلے میں ہوا تھا۔ ایس آئی آر سے پہلے ریاست میں 15.44 کروڑ ووٹر تھے۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں یہ تعداد گھٹ کر 12.56 کروڑ رہ گئی، تاہم حتمی ووٹر لسٹ میں اصلاح کے بعد بڑھ کر 13.40 کروڑ ہو گئی۔’6 ریاستوں میں 10 کروڑ ووٹرس، ایس آئی آر میں صرف 1600 غیر ملکی ملے، تو لاکھوں نام کیوں حذف کیے گئے؟‘ کانگریس کا سوالاتر پردیش میں 2 کروڑ سے زائد ووٹرس کے نام حذف ہوئےاتر پردیش کی ووٹر لسٹ میں اصلاح کے بعد تقریباً 2.04 کروڑ ووٹرس کی کمی ہوئی۔ یہ کل ووٹرس کا تقریباً 13.24 فیصد ہے اور پانچوں ریاستوں میں سب سے زیادہ کمی یہیں دیکھی گئی ہے۔ ڈرافٹ لسٹ سے تقریباً 2.89 کروڑ نام ہٹائے گئے تھے، جن میں سے تقریباً 84 لاکھ یعنی قریب 29 فیصد نام دوبارہ شامل کر دیے گئے۔کرناٹک میں ایس آئی آر کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جاری، 99.32 لاکھ سے زیادہ نام خارجپنجاب میں 14 لاکھ ووٹرس کے نام کٹےپنجاب میں تیسرے مرحلے میں ایس آئی آر کیا گیا۔ ووٹرس کی تعداد ڈرافٹ لسٹ میں 2.15 کروڑ سے گھٹ کر 1.94 کروڑ رہ گئی اور پھر حتمی ووٹر لسٹ میں 2.01 کروڑ رہی۔ ووٹرس کی تعداد میں مجموعی کمی تقریباً 14 لاکھ یا 6.34 فیصد رہی۔ یہاں سب سے زیادہ نام دوبارہ شامل کیے گئے۔ ڈرافٹ لسٹ سے ہٹائے گئے تقریباً 21 لاکھ ووٹرس میں سے قریب 7 لاکھ ووٹرس کے نام دوبارہ فہرست میں شامل کیے گئے۔سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعت ملتوی، 17 نومبر کو ہوگی اگلی سماعتاتراکھنڈ میں 8 لاکھ ووٹرس کے نام کٹےاتراکھنڈ میں تیسرے مرحلے میں ایس آئی آر ہوا۔ ووٹرس کی تعداد 80 لاکھ سے گھٹ کر 71 لاکھ رہ گئی۔ حتمی ووٹر لسٹ میں یہ تعداد 72 لاکھ ہو گئی۔ اس طرح ووٹرس کی مجموعی تعداد میں تقریباً 8 لاکھ یا 10.07 فیصد کی کمی آئی۔ ہٹائے گئے ناموں میں سے صرف 25 ہزار نام دوبارہ شامل کیے گئے، جو فہرست سے ہٹائے گئے کل ناموں کا تقریباً 3 فیصد ہے۔اتر پردیش: ایس آئی آر میں مصروف افسران اور ملازمین کے تبادلوں پر 4 جنوری تک پابندیمنی پور میں کم ہوئے 6.33 فیصد ووٹرسمنی پور میں بھی تیسرے مرحلے میں ایس آئی آر ہوا، جہاں ووٹرس کی تعداد 20.9 لاکھ سے گھٹ کر 19.3 لاکھ رہ گئی اور آخر میں 19.6 لاکھ ہو گئی۔ اس طرح ریاست میں 6.33 فیصد ووٹرس کی کمی ہوئی۔ یہ کمی تقریباً پنجاب کے برابر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈرافٹ لسٹ سے ہٹائے گئے تقریباً 17 فیصد نام دوبارہ شامل کر دیے گئے۔گوا میں 1.3 لاکھ ووٹرس کے نام کٹےگوا میں دوسرے مرحلے میں ایس آئی آر ہوا تھا۔ ووٹرس کی تعداد 11.85 لاکھ سے گھٹ کر 10.85 لاکھ رہ گئی۔ حتمی فہرست میں یہ مزید کم ہو کر 10.58 لاکھ رہ گئی۔ اس طرح گوا میں تقریباً 1.3 لاکھ یا 10.76 فیصد ووٹرس کی کمی ہوئی۔ ان پانچوں ریاستوں میں گوا واحد ریاست ہے جہاں حتمی ووٹر لسٹ میں ڈرافٹ لسٹ کے مقابلے میں بھی کم نام ہیں۔ یہاں ہٹائے گئے ناموں کی مجموعی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش اسمبلی (403 اراکین) کی مدت کار آئندہ سال 22 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ دوسری جانب 60 اراکین والی منی پور، 40 اراکین والی گوا، 117 اراکین والی پنجاب اور 70 اراکین والی اتراکھنڈ اسمبلیوں کی مدت کار مارچ 2027 میں الگ الگ تاریخوں پر ختم ہوگی۔