’خود ساختہ چانکیہ‘ کی چال ہے ’اروناچل جنتا پارٹی‘ کا قیام، جے رام رمیش کا امت شاہ پر طنز

Wait 5 sec.

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے منگل (3 نومبر) کو ’اروناچل جنتا پارٹی‘ نامی جماعت کے قیام پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ یہ ’خود ساختہ چانکیہ‘ کی ایک چال ہے۔ انہوں نے اس جماعت کے قیام سے متعلق ایک عوامی نوٹس شیئر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے باغی ارکان پارلیمنٹ کے لیے ’نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا‘ (این سی پی آئی) کو ایک ’پناہ گاہ‘ کے طور پر دوبارہ فعال کیا گیا تھا۔Undoubtedly, a move by the self-styled Chanakya who revived an unknown Nationalist Citizens Party of India as a parking place for TMC defectors.There are 734 such registered unrecognised political parties in India that had a reported income of over Rs 1100 crore in 2024/25.… pic.twitter.com/By1ZW9mqUh— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) November 3, 2026جے رام رمیش کی جانب سے شیئر کیے گئے نوٹس کے مطابق ’اروناچل جنتا پارٹی‘ کا قیام 16 اکتوبر 2026 کو عمل میں آیا۔ پارٹی کا صدر دفتر اروناچل پردیش کے پاپم پارے ضلع کے ایٹانگر میں واقع ڈوکم کالونی میں بتایا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29 اے کے تحت الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ مجوزہ رجسٹریشن پر کسی بھی قسم کا اعتراض رکھنے والے شخص سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 دسمبر 2026 تک نئی دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر میں تحریری اعتراض درج کرا سکتا ہے۔کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ملک میں اس طرح کی 734 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیاں ہیں، جن کی جانب سے 25-2024 میں ظاہر کی گئی آمدنی 1100 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔ انہوں نے الزام عائد کہ اس رقم کا نصف حصہ صرف گجرات کی ایسی 29 سیاسی پارٹیوں کے پاس گیا۔این سی پی آئی: 2023 میں رجسٹریشن اور پہلے الیکشن میں محض 822 ووٹ، اب راتوں رات ملے 20 ایم پی، آئیے جانیں پارٹی کی کہانیقابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں ترنمول کانگریس کی شکست کے بعد اس کے 27 لوک سبھا اراکین میں سے 20 نے پارٹی چھوڑ دی تھی۔ کئی دنوں تک بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں اور ’دَل بدل قانون‘ کے نفاذ سے متعلق بحث کے بعد ان تمام ارکین نے این سی پی آئی نامی ایسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کا کوئی رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ نہیں تھا۔ ان اراکین پارلیمنٹ نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو حمایت دی تھی۔