چترکوٹ میں سیلاب کا خوفناک نظارہ، منداکنی ندی نے توڑا 23 سالہ ریکارڈ، ہیلی کاپٹر سے ہو رہا لوگوں کا ریسکیو

Wait 5 sec.

اتر پردیش کے چترکوٹ ضلع میں مسلسل ہو رہی بارش کے بعد منداکنی ندی نے ایک بار پھر اپنی غضب ناک شکل دکھائی ہے۔ ندی کی آبی سطح خطرے کے نشان سے بہت اوپر پہنچ گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ پلکت گرگ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق منداکنی نے گزشتہ 23 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ 2003 میں ندی کی آبی سطح تقریباً 134 سینٹی میٹر درج کی گئی تھی، اور اس بار یہ 134.02 سینٹی میٹر تک پہنچ گئی ہے۔#BreakingNews Two people stranded in the floods in Chitrakoot were rescued by the Indian Air Force! ❣️ pic.twitter.com/qbgwjVQT4N— NEUTRAL INDIA (@_neutralindia) August 29, 2026منداکنی کی بڑھتی ہوئی آبی سطح سے اتر پردیش-مدھیہ پردیش سرحد پر واقع رام گھاٹ پوری طرح سیلاب کی زد میں آ گیا ہے۔ گھاٹ کی سینکڑوں دکانیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کئی مٹھوں اور مندروں کے اندر بھی پانی داخل ہو چکا ہے۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر محفوظ مقامات پر پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ندی کا بہاؤ اتنا تیز ہے کہ رام گھاٹ میں ہنومان دھارا جانے والے راستے پر بنا پل پانی کی تیز دھار میں بہہ گیا۔ چترکوٹ سے مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع کی جانب جانے والے راستے پر بھی سیلاب کا پانی بھر گیا ہے۔ جن سڑکوں پر پہلے گاڑیاں دوڑتی تھیں، وہاں اب کشتیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ کشتی کے ذریعے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا جا رہا ہے۔ منداکنی کا پانی اب اتر پدیش اور مدھیہ پردیش کی سرحد کے بڑے حصے میں پھیل گیا ہے۔ اتر پردیش کے چترکوٹ میں ترونہا، گوبریا اور بہادر سمیت کئی گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ کئی لوگ سیلاب کے درمیان پھنس گئے، جنہیں انتظامیہ اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش اور مدھیہ پردیش دونوں ریاستوں کی انتظامیہ الرٹ موڈ پر ہے۔ Chitrakoot Flood Crisis: Flash floods are causing severe disruption across Chitrakoot as the disaster unfolds on the ground. Authorities and emergency teams are responding amid rapidly worsening conditions. The situation remains critical. pic.twitter.com/NLWAQjdpwX— HINT News (@9415st) August 29, 2026سیلاب کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے گھاٹوں اور پانی جمع ہونے والے علاقوں میں لوگوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ مسلسل اعلانات کے ذریعہ لوگوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے قیام اور کھانے پینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ افسران کی ٹیمیں مسلسل سیلاب سے متاثرہ علاقوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ پلکت گرگ نے بتایا کہ سیلاب سے متعلق رات میں ہی انتظامیہ کی ٹیموں نے لوگوں کو الرٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ کے مطابق جہاں پانی جمع ہوا ہے اور لوگ پھنسے ہوئے ہیں، وہاں راحت اور بچاؤ مہم مسلسل جاری ہے۔سیلاب سے نمٹنے کے لیے 4 این ڈی آر ایف ٹیمیں، 4 ایس ڈی آر ایف ٹیمیں اور 2 پی ای سے ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 10 مزید ٹیمیں بھی بلائی گئی ہیں، جنہیں ضرورت کے مطابق پانی جمع ہونے والے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ترجیح سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنا ہے۔ مدھیہ پردیش انتظامیہ کی جانب سے ہیلی کاپٹر کی مدد سے بھی ریسکیو آپریشن چلایا گیا۔ سیلاب میں پھنسے کئی لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ بحفاظت نکالا گیا۔ جن مقامات تک ٹیمیں کشتی کے ذریعے پہنچ سکتی ہیں، وہاں کشتیوں کی مدد سے لوگوں کو باہر لایا جا رہا ہے۔ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے جوان مسلسل متاثرہ علاقوں میں مہم چلا رہے ہیں۔ SEVERE FLOODING IN CHITRAKOOT, MADHYA PRADESHChitrakoot in Madhya Pradesh’s Satna district is witnessing severe flooding after 14 hours of torrential rain caused the Mandakini River to overflow.#Chitrakoot #MadhyaPradesh #Satna #ChitrakootFlood #MandakiniRiver #Flood… https://t.co/o31R8ZfSWd pic.twitter.com/N7zsZoOTaA— Indian Observer (@ag_Journalist) August 29, 2026منداکنی کی آبی سطح بڑھنے کی وجہ سے کروی شہر میں ندی پر بنے پل کے اوپر سے پانی بہنے لگا۔ اس کے نتیجے میں جھانسی-مرزاپور نیشنل ہائی وے-35 پر آمد و رفت بند کر دی گئی ہے۔ پل کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطار لگ گئی اور کئی گھنٹوں تک جام کی صورتحال بنی رہی۔ انتظامیہ نے لوگوں سے غیر ضروری طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نہ جانے کی اپیل کی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ انتظامیہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی سلامتی اور راحت کے انتظامات پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے قیام اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ افسران اور امدادی ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ بارش اور ندی کی آبی سطح پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ حالات خراب ہونے پر فوری طور پر راحت اور بچاؤ مہم تیز کی جا سکے۔