بھارت: طلبہ مودی حکومت کے خلاف پھر سڑکوں پر نکل آئے

Wait 5 sec.

دہلی (31 اگست 2026): مودی حکومت میں تعلیمی بد انتظامی اور بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق تعلیمی بد انتظامی اور بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ بہار میں سول سروسز کے امیدوار مودی حکومت کے سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی عمل کو شفاف بنایا جائے اور نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع فراہم کیے جائیں۔احتجاجی رہنما امان کمار کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کی بدحالی اور پیپر لیکس اسکینڈلز کیخلاف شروع ہونے والی نوجوانوں کی تحریک وزیر تعلیم کے استعفے تک جاری رہے گی۔دوسری جانب مودی سرکار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے احتجاج کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج، واٹر کینن کا استعمال اور گرفتاریوں کے ذریعے انہیں پسپا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے طلبہ احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی پی ایس سی امتحانی تنازع پر مودی حکومت جواب دہی سے بچنے کیلیے پولیس کو ہتھیار بنا رہی ہے۔