نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والی تباہی کے اثرات سرحد پار اتر پردیش میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ اتوار کے روز کشی نگر میں گنڈک ندی سے مزید 4 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ گزشتہ 4 دنوں میں ندی سے کل 13 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان لاشوں کے نیپال سے بہہ کر آنے کا شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز ’ایس ڈی آر ایف‘ کی ٹیم چھتونی بند کے بھیڑیاری ٹھوکر نمبر-3 کے قریب ندی کی نگرانی کر رہی تھی۔ اسی دوران جوانوں کو ندی میں بہتی ہوئی 4 لاشیں نظر آئیں۔ ٹیم ندی میں اتری اور سبھی لاشوں کو باہر نکال لیا۔ ان میں 2 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ اس سے ایک روز قبل بھی اسی علاقے میں 3 لاشیں ملی تھیں۔ بر آمد کی گئی لاشوں کی اطلاع نیپال کے پڑوسی ضلع کے افسران کو دے دی گئی ہے۔ حالانکہ اب تک کسی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔Nepal flash floods: 13 bodies recovered from Gandak in UP districtshttps://t.co/LsgtiUXbtW— Economic Times (@EconomicTimes) August 31, 2026کھڈا تھانہ کے پولیس افسر سندیپ کمار سنگھ کے مطابق ضروری کاغذی کارروائی پوری کرنے کے بعد چاروں لاشوں کو مردہ گھر بھیج دیا گیا ہے۔ کشی نگر کے مردہ گھر میں جگہ نہیں ہونے کی وجہ سے باقی لاشوں کو گورکھپور بیج دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار لاشوں کی شناخت کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ نیپال سیلاب متاثرہ لوگ کون ہیں۔ واضح رہے کہ 26 اگست کو تبت سرحد کے قریب گلیشیر ٹوٹنے کی وجہ سے تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ برف، چٹانوں اور ملبے کے تیز بہاؤ نے کئی گاؤں کو اپنی زد میں لے لیا۔ بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی ہائیڈرو پاور اسٹیشن بھی تباہ ہو گئے۔ بھوٹے کوشی ندی کے راستے آگے بڑھنے کی وجہ سے کافی تباہی ہوئی۔نیپال میں سیلاب کی تباہی، 781 افراد ہلاک، 2500 سے زائد لاپتا؛ بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جارینیپال میں اتوار تک سیلاب کے سبب اموات کی تعداد 788 ہو گئی تھی۔ وہیں 2500 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق نیپال میں 275 سے زیادہ ہندوستانی شہریوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ان کے علاوہ 128 ہندوستانی نژاد افراد سے بھی رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔ اتوار کے روز وزارت نے 149 افراد کو بحفاظت بچائے جانے کی فہرست جاری کی۔ کشی نگر میں ملنے والی لاشوں کی شناخت ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان میں نیپال کے سیلاب سے متاثرہ افراد شامل ہیں یا نہیں۔