ایران کا امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دینا بالکل غلط ہے، سینٹ کام

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی جارحیت سے متعلق پاسداران انقلاب کے دعوے غلط ہیں۔سینٹکام نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی پاسداران کے خلاف محدود اور انتہائی درست کارروائی کی ہے، جو آبنائے میں ایک فوری خطرہ پیدا کر رہی تھیں۔ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ان کو بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کے لیے امریکی فورسز کی جانب سے کیے گئے حملے ’’جارحیت کا ایک اقدام‘‘ تھا، سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دینے کا یہ دعویٰ ’’بالکل غلط‘‘ ہے۔ایران کا جوابی وار، اردن میں امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے، ویڈیو بھی جاری کر دیسینٹکام نے بیان میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں فوری خطرہ پیدا کرنے والی پاسداران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی فورسز کے خلاف ’محدود اور انتہائی درست کارروائی‘ کی۔CLAIM: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) claimed in a recent statement that strikes by U.S. forces to prevent the IRGC from placing mines in the Strait of Hormuz were an “act of aggression.” This claim is absolutely FALSE.FACT: U.S. forces took limited,… pic.twitter.com/XLx8xNTHto— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 31, 2026کمانڈ نے کہا بنیادی طور پر ایران نے یہ خطرہ پیدا کیا اور امریکی فوج نے اسے ختم کر دیا ہے، تاکہ شہری بحری جہازوں کے ملاحوں، تجارتی جہاز رانی اور عالمی تجارت کے آزادانہ بہاؤ کا تحفظ کیا جا سکے۔واضح رہے کہ کئی ہفتوں بعد جزیرہ لارک پر اچانک امریکی فوج کے حملے کے بعد خطے میں پھر سے بمباری شروع ہو گئی ہے، سینٹکام کے حملے کے بعد ایران نے بھی اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اس نے فوجی انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔