کٹھمنڈو(31 اگست 2026): نیپال میں اونچے ہمالیہ سے برفانی تودے گرنے اور مون سون کی طوفانی بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب سے نظامِ زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔نیپال میں سیلابی ریلے اپنے پیچھے تباہی کی ان گنت داستانیں چھوڑ گئے ہیں جبکہ ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید سیلابی ریلوں اور بارشوں کا نیا الرٹ جاری کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے اس تباہ کن سیلاب کے بعد ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ تین ہزار سے زائد افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز دن رات جاری ہیں۔امدادی ٹیمیں دریاؤں کے کناروں اور ملبے کے بڑے بڑے ڈھیروں سے متاثرین کی لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سینکڑوں افراد ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ریڈ کراس نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ننانوے ہزار سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث متاثرہ علاقوں میں مرنے والے افراد کی اجتماعی تدفین کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔مستقبل میں لاپتا افراد کے ورثا کے لیے ڈی این اے ٹریکنگ اور شناخت میں مدد کی غرض سے تدفین کا تفصیلی ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، اور آفت زدہ علاقے سے تقریباً دو سو کلومیٹر دور جنگل کے قریب سینکڑوں قبریں تیار کی گئی ہیں۔دوسری جانب ہمسایہ ملک تبت میں بھی سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد سولہ تک پہنچ گئی ہے جبکہ پانچ سو چھیالیس افراد لاپتا ہیں۔چینی حکام کے مطابق تبت میں لاپتا ہونے والے افراد میں تئیس مختلف ممالک کے دو سو اکہتر غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں نیپال، بھارت، امریکا اور برطانیہ کے شہری بھی بتائے جاتے ہیں۔نیپالی حکومت اور بین الاقوامی امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کا کام تیز کرنے کے ساتھ ساتھ ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کی فراہمی میں مصروف ہیں۔چنیوٹ: حالیہ سیلاب میں کتنے افراد بے گھر ہوئے؟ رپورٹ جاری