موبائل فون چوروں کو پکڑنے کیلیے سیڑھیوں پر دوڑنے والی بائیکس آگئیں

Wait 5 sec.

لندن : برطانیہ میں اسٹریٹ کرائمز اور موبائل فون چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام کیلیے پولیس نے اہم فیصلہ کرلیا، ای بائیکس فورس قائم کردی گئی۔برطانوی دارالحکومت لندن میں موبائل فون چھیننے سمیت سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے میٹرو پولیٹن پولیس نے ای بائیکس فورس متعارف کرا دی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق جرائم کی وارداتوں کے بڑھنے پر برطانوی شہری بھی پریشان ہیں، لندن میں ہر چار منٹ بعد چوری یا پھر موبائل فون چھیننے کی واردات رپورٹس ہو رہی ہیں۔لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے اسٹریٹ کرائمز بالخصوص موبائل فون چھیننے والے جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے کے لیے ہائی پاورڈ الیکٹرک بائیکس (ای بائیکس ) کے خصوصی اسکواڈ میں بڑا اضافہ کیا ہے۔ پولیس حکام نے اس فورس کی توسیع کو اسٹریٹ کرائم کے خلاف ایک بڑا ہتھیار قرار دیا ہےپولیس کے مطابق پہلے مرحلے میں اسکواڈ میں 20 ای بائیکس شامل کی گئی ہیں جو 50 میل فی گھنٹہ (تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک رفتار سے چل سکتی ہیں۔ان بائیکس کی خاص بات یہ ہے کہ پولیس اہلکار مشتبہ ملزمان کا سڑکوں سے ہٹ کر بھی تعاقب کرسکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سیڑھیوں تک پر ان کا پیچھا کیا جاسکتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ نئی ای بائیکس بالخصوص موبائل فون چھیننے کی وارداتوں کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی تک کے 12 ماہ کے دوران لندن میں موبائل فون چوری کے واقعات تقریباً 68ہزار سے کم ہوکر 54 ہزار رہ گئے۔ایک گشت کے دوران میٹ پولیس کے افسر نے ای بائیکس اور ڈرونز کے استعمال کو جرائم کے خلاف کارروائی میں مؤثر قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افراد بھی پولیس کی گشت کے اوقات میں تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔تاہم پولیس کی کارروائیوں کے باوجود ایسے مقدمات میں ’مثبت نتائج‘ ایک فیصد سے بھی کم ہیں، میٹ پولیس کے مطابق مثبت نتیجے سے مراد ایسا معاملہ ہے جس میں ملزم کو وارننگ، فردِ جرم یا کسی اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔لندن کی ڈپٹی میئر برائے پولیسنگ و کرائم کایا کومر شوارٹز نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ موبائل فون چوری جیسے جرائم سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ وسیع تر فوجداری نظام انصاف میں بہتری اور متاثرین کی معاونت بھی ضروری ہے۔