(1 ستمبر 2026): امریکا نے ایران میں پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کر دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے امریکی افواج نے ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلانسینٹ کام نے بیان میں کہا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف پاسداران انقلاب کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملے کے ردعمل میں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر طاقتور حملے کر رہے ہیں جو بارودی سرنگیں بچھانے کی ایران کی ناکام کوشش کا جواب ہے، آبنائے ہرمز میں اس وقت کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حملے کی دوسری وجہ اردن میں امریکی اڈے پر ایران کے داغے گئے 8 میزائل ہیں، 8 میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا تھا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران نے امریکا کی جائز کارروائی پر جوابی ردعمل دیا تو پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ ہوگا۔دوسری جانب، ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز کے شمالی پر واقع ایران کے جزیرے قشم میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔جبکہ نور نیوز نے بندرگاہی شہر بندر عباس اور جنوبی ساحل پر واقع بندرگاہ چاہ بہار میں بھی دھماکوں کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔