تمل ناڈو پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن کی سیکورٹی کو زیڈ پلس زمرے سے کم کر کے زیڈ زمرے میں کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ریاستی سکریٹریٹ میں کور سیل سیکورٹی ونگ کے جائزے کے بعد لیا گیا۔ چیف سکریٹری سائی کمار، ہوم سکریٹری کے منیواسن، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل مہیش کمار اگروال اور دیگر سینئر افسران نے اس عمل میں حصہ لیا اور خفیہ معلومات اور اسٹالن کی سیکورٹی کی ضروریات کا جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ سیکورٹی حاصل کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو لاحق خطرات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر انہیں سیکورٹی مہیا کرائی جاتی ہے۔فاروق عبداللہ پر حملے سے حکومت میں کھلبلی! وی آئی پی سیکورٹی کا جائزہ لینے کا حکمنئے انتظام کے تحت اسٹالن کو کافی پولیس سیکورٹی ملتی رہے گی۔ ان کے قافلے کے آگے، درمیان اور پیچھے سیکورٹی ٹیمیں تعینات رہیں گی۔ اس سیکورٹی حصار میں سفر اور عوامی پروگراموں کے دوران ان کی حفاظت کے لیے پائلٹ، اسکارٹ، بیک اپ اور کلوز پروٹیکشن گاڑیاں شامل ہوں گی۔ افسران نے اس تبدیلی کو سیکورٹی ہٹانے کے بجائے تعیناتی کو معقول بنانے کا قدم قرار دیا۔ اسٹالن کی سیکورٹی میں تعینات اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔ نئے سیکورٹی انتظامات اگلے جائزے تک نافذ رہے گیں، جب تک کہ کوئی نئی خفیہ اطلاع نہ ملے اور جائزے کی ضرورت پیش نہ آئے۔تمل ناڈو میں وی آئی پی اور وی وی آئی پی افراد کو فراہم کی جانے والی سیکورٹی کا ہر 6 ماہ میں جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس عمل میں خفیہ رپورٹوں، خطرات کی نوعیت اور عجلت، عوام کے درمیان موجودگی، سفر کے طریقۂ کار اور سیکورٹی کی ضروریات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر سیکورٹی زمرے کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، بڑھایا جا سکتا ہے یا کم کیا جا سکتا ہے۔ سیکورٹی زمرے میں یہ کمی اسٹالن اور ڈی ایم کے کو 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے چند ماہ بعد کی گئی ہے۔ 2021 میں 133 نشستیں جیت کر 5 برسوں تک حکومت چلانے والی یہ پارٹی 59 نشستوں پر محدود ہو گئی، جبکہ اداکار سے سیاست دان بننے والے سی۔ جوزف وجے کی پارٹی ’تملگا ویٹری کژگم‘ 108 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔مرکز کی ’حدبندی بل‘ کے خلاف اسٹالن اور وزیر اعلیٰ وجے نے ملایا ہاتھ، مل کر کریں گے مقابلہاسٹالن کو کولاتھور میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کا اپنا علاقہ تھا اور جس انتخابی حلقے کی انہوں نے 3 مرتبہ نمائندگی کی۔ ٹی وی کے امیدوار وی۔ ایس۔ بابو کو 82997 ووٹ ملے، جبکہ اسٹالن کو 74202 ووٹ ملے۔ اس طرح بابو نے 8795 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اسٹالن نے مدراس ہائی کورٹ میں بابو کے انتخاب کو چیلنج کیا ہے۔ اقتدار اور اپنی اسمبلی نشست گوا دینے کے باوجود اسٹالن ڈی ایم کے کے صدر اور تمل ناڈو کے سب سے اہم اپوزیشن رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ ان کی سیکورٹی کا جائزہ مکمل طور پر پیشہ ورانہ خطرے کے جائزے پر مبنی تھا اور یہ سیکورٹی حاصل افراد کے ریاستی سطح پر کیے جانے والے معمول کے جائزے کا حصہ تھا۔ اس کا کسی کی سیاسی حیثیت یا انتخابی نتائج سے کوئی تعلق نہیں تھا۔