نیپال میں شدید سیلاب کے باعث پھنسے 105 ہندوستانی شہری بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ تمام مسافر ناگپور کے رہنے والے تھے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے وہ لوگ پٹنہ-پورنا ایکسپریس سے ناگپور ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ یہاں ان کے اہل خانہ اور دوستوں نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ شدید سیلاب میں پھنسے رہنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس لوٹنے پر ان لوگوں کے چہروں پر خوشی صاف نظر آئی۔ ان لوگوں نے بحفاظت ہندوستان واپسی کے لیے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔As many as 105 citizens from Nagpur who were stranded in Nepal due to severe floods returned home safely on Sunday. The passengers arrived at Nagpur railway station early in the morning, where their families and other citizens gathered to welcome them. The returning travellers… pic.twitter.com/Sjnyn28xVf— IndiaToday (@IndiaToday) August 30, 2026دوسری جانب تمل ناڈو کے بھی کئی لوگوں کو بحفاظت ہندوستان لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر ریاستی وزیر راج موہن نے بتایا کہ نیپال میں پھنسے تمل ناڈو کے 319 افراد میں سے 219 کو بچا لیا گیا ہے اور یہ تمام لوگ 31 اگست کو ہندوستان واپس آ جائیں گے۔ ان کے مطابق تمل ناڈو حکومت مسلسل مرکزی حکومت کے رابطے میں ہے اور نیپال میں پھنسے تمل لوگوں کو بچانے کے لیے کئی طرح کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمل ناڈو کے 319 لوگ نیپال میں پھنسے تھے، جن میں سے 219 لوگوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور یہ لوگ 31 اگست تک ہندوستان پہنچ جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر 100 افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو ’کیلاش-مانسروور یاترا‘ پر گئے آندھرا پردیش کے 26 زائرین کا ایک گروپ بھی نیپال میں اچانک آئے سیلاب سے بچ کر بحفاظت واپس آ گیا ہے۔ ایک زائر گاڈو الیوینی نے بتایا کہ ’’گزشتہ جمعہ کو ہم باگڈوگرا ایئرپورٹ سے کاٹھمنڈو پہنچے تھے۔ ہمیں امید تھی کہ ویزا فوراً مل جائے گا اور ہم آگے بڑھ سکیں گے، لیکن ہمیں 3 دن انتظار کرنا پڑا۔ آخرکار گزشتہ رات ویزا مل ہی گیا۔ جیسے ہی ویزا ملا، آندھرا سے آئے ہم سبھی 26 لوگ اور مغربی بنگال سے آئے 28 لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ایک دن قبل جب ویزے میں تاخیر ہوئی تو سب بہت مایوس تھے، اور ڈر تھا کہ شاید ہم جا ہی نہ پائیں۔ اس لیے جب ویزا ملا تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ لیکن اگلی صبح ہمیں آفت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘