’بیرون ملک دانشمندانہ باتیں، ملک میں خاموشی‘، موہن بھاگوت کے اتحاد سے متعلق بیان پر کپل سبل کا سخت ردعمل

Wait 5 sec.

راجیہ سبھا کے رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے اتوار کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے امریکہ میں دیے گئے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھاگوت نے کہا تھا کہ تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ صرف الفاظ اہمیت نہیں رکھتے بلکہ کام بھی نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے بھاگوت کے تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’بیرون ملک دانشمندانہ باتیں‘‘ اور ’’ملک میں خاموشی‘‘ کا معاملہ قرار دیا۔ہندوستانیوں کے لیے اتحاد اور تنوع دونوں ہی ان کے ڈی این اے میں پیوست ہیں: بھاگوتکپل سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نیویارک میں بھاگوت: تنوع ہماری فطری یکجہتی کی شان ہے۔ اس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ بیرون ملک دانشمدانہ باتیں، ملک میں خاموشی۔ الفاظ اہمیت نہیں رکھتے، عمل بولنا چاہیے!‘‘ سبل کا یہ تبصرہ آر ایس ایس سربراہ بھاگوت کے اس بیان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے اور اسے منایا، اس کا احترام اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔‘‘Bhagwat in New York: “Diversity is a decoration of our innate unity. It has to be protected”Wise words abroadSilence at homeWords don’t matterActions must speak !— Kapil Sibal (@KapilSibal) August 30, 2026واضح رہے کہ موہن بھاگوت نے ہفتے کے روز نیویارک کے معروف میڈیسن اسکوائر گارڈن میں واقع انفوسس تھیٹر میں منعقدہ ایک بڑے پروگرام سے خطاب کیا تھا۔ اس میں ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے 6000 سے زائد اراکین اور مختلف مذاہب کے رہنما شامل ہوئے۔ یہ پروگرام امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ (اے ایچ ای اے ڈی) فورم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’جب ہم امریکہ، یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کہتے ہیں تو ایک لفظ پر اکثر بحث ہوتی ہے اور وہ ہے تکثیریت۔ جب ہم ہندوستان کہتے ہیں تو ایک اور جملے پر بحث ہوتی ہے، تنوع میں اتحاد۔‘‘ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے لیے اتحاد اور تنوع دونوں اس کے ڈی این اے میں شامل ہیں۔ انہوں نے سوامی وویکانند کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر قوم کا ایک مشن ہوتا ہے جسے اسے پورا کرنا ہوتا ہے۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہندوستان کو کون سا مقصد سونپا گیا ہے؟ ہندوستان اس تنوع میں اتحاد کو سمجھنے اور وقتاً فوقتاً دنیا کو اس کا احساس کرانے کے لیے ہے۔ ہم ایک ہیں اور اسی تنوع کی وجہ سے اس اتحاد کی خوبصورتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’تنوع کا جشن منایا جانا چاہیے، اس کا احترام اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں اتحاد کے اس احساس کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ یہ ایک بہت حقیقی احساس ہے۔‘‘