مراٹھا تحریک کا دوسرا دن: 12 ستمبر تک مطالبات نہ مانے گئے تو ممبئی میں بھوک ہڑتال کریں گے منوج جرانگے

Wait 5 sec.

ممبئی: مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبہ پر منوج جرانگے پاٹل کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہی۔ جرانگے نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اہل مراٹھوں کو کنبی ذات کا سرٹیفکیٹ دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے 12 ستمبر تک مطالبات پر کارروائی نہیں کی تو وہ ممبئی تک مارچ کریں گے اور احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا۔جرانگے نے ہفتے کے روز جالنا ضلع کے اپنے آبائی گاؤں انترولی ساراتی میں مراٹھا ریزرویشن سے متعلق مطالبات کے لیے اپنی 11ویں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ ان کی حمایت میں مراٹھا برادری کے ہزاروں افراد وہاں جمع ہیں۔جرانگے کا بنیادی مطالبہ ہے کہ اہل مراٹھوں کو کنبی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ کنبی ایک زرعی برادری ہے جسے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے زمرے کے تحت تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل ہے۔ جرانگے نے کہا کہ تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر اہل مراٹھوں کو فوری طور پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 58 لاکھ تاریخی ریکارڈ اس مطالبے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن معاملات میں تاریخی شواہد دستیاب ہیں، وہاں ذات کی تصدیق کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے ذات کے سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا عمل روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔جرانگے نے کہا کہ ان کی قیادت میں مراٹھا برادری کی کور کمیٹی کا اجلاس 12 ستمبر کو انترولی ساراتی میں ہوگا۔ اسی اجلاس میں ممبئی میں بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر حکومت اس تاریخ تک مطالبات تسلیم کر لیتی ہے تو ممبئی میں احتجاج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ان کے دیگر مطالبات میں ساتارا گزٹ کی بنیاد پر ریزرویشن دینا، پورے مہاراشٹر میں ریزرویشن تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف درج پولیس مقدمات واپس لینا اور سابقہ احتجاج کے دوران جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمت اور مالی معاوضہ دینا شامل ہے۔جرانگے نے مراٹھا افراد کے ذات سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جانے پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے ایک پروگرام کے منتظمین کو بھی خبردار کیا کہ اگر پروگرام منسوخ نہ کیا گیا تو وہ خود وہاں پہنچ سکتے ہیں، جس سے ریاست میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔دریں اثنا، مراٹھا کرانتی مورچہ کے ریاستی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سنجے لاکھے پاٹل نے ذات کی تصدیق کرنے والی کمیٹیوں کے حوالے سے مبینہ طور پر ریاستی وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل کے بیان پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے تصدیقی کمیٹیوں کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ’’غیر آئینی اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر ذاتوں اور قبائل کے ریزرویشن حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ادھر ریاستی حکومت نے 25 اگست کو مراٹھا-کنبی ریکارڈ کی جانچ کرنے والی کمیٹی کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی تھی۔ ریٹائرڈ جسٹس سندیپ شندے کی سربراہی والی کمیٹی کی مدت اب 30 جون 2027 تک ہے۔ حکومت کے مطابق بعض اضلاع میں مراٹھا-کنبی نسب ناموں کی جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے کمیٹی کو مزید وقت دیا گیا ہے۔