خوفناک جانور کے کاٹنے کے بعد بکری کے بچوں کیوں ہلاک کیا گیا؟

Wait 5 sec.

کیرولائنا : امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں موبائل پٹنگ زو میں موجود بکری کے چار بچوں میں ریبیز کی تصدیق کے بعد محکمہ صحت نے ان افراد کو خبردار کیا ہے جنہوں نے ان بکریوں کو چھوا یا ان کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔شمالی کیرولائنا محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ بکریاں فارم ایڈونچرز نامی موبائل پٹنگ زو کی تھیں، جو ریاست کے مختلف علاقوں میں بچوں اور دیگر افراد کے لیے تقریبات کا انعقاد کرتا ہے۔موبائل پیٹنگ زو کیا ہے؟ (Mobile Petting Zoo)موبائل پیٹنگ زو سے مراد چھوٹا جانوروں کا ایسا چھوٹا سا فارم یا چڑیا گھر ہے جو ایک مستقل جگہ پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں جانوروں کو گاڑیوں کے ذریعے مختلف مقامات، اسکولوں، میلوں، پارکوں یا تقریبات میں لے جایا جاتا ہے۔وہاں بچے اور بڑے جانوروں کو قریب سے دیکھ کر اور چھو کر خوشی محسوس کرتے ہیں، مثلاً بکری، بھیڑ، خرگوش، مرغیاں وغیرہ۔اس گاڑٰی کو عام زبان میں جانوروں کی مختلف مقامات پر نمائش اور انہیں چھونے کی سہولت فراہم کرنے والا موبائل چڑیا گھر بھی کہا جاسکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی محکمہ صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ 28 جولائی سے 27 اگست کے دوران ہارمونی، شمالی کیرولائنا میں یا کسی دوسرے مقام پر فارم ایڈونچرز کی کم عمر بکریوں کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد اپنے مقامی محکمہ صحت سے رابطہ کریں تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ انہیں ریبیز سے بچاؤ کے لیے طبی علاج یا ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں۔فارم ایڈونچرز نے فیس بک پر جاری بیان میں بتایا کہ اس کی چار کم عمر بکریاں مولی، میگی، کاؤ اور اونو ریبیز کا شکار ہوگئی تھیں، جنہیں بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہلاک کردیا گیا۔پٹنگ زو انتظامیہ کے مطابق گزشتہ دنوں چاروں بکریاں دیگر جانوروں سے الگ ایک باڑے میں رکھی گئی تھیں۔ جہاں ایک (سیاہ و سفید دھاریوں والا کتے سے مشابہ ایک جنگلی جانور) سکنک اس باڑے میں داخل ہوگیا اور بکریوں کو کاٹ لیا، تاہم عملے کو اس وقت اس بات کا علم نہیں ہوسکا۔زو انتظامیہ نے بتایا کہ یہ بکریاں ریبیز کی ویکسین لگوانے کے لیے کافی کم عمر تھیں اور اس وقت ان بکریوں میں ریبیز کی کوئی واضح علامت یا بیماری کی نشانی بھی ظاہر نہیں ہوئی تھی۔بعد ازاں ایک بکری کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹر کی جانب سے طبی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد مزید جانچ پڑتال کے لیے اسے لیبارٹری بھیجا گیا۔اس دوران کئی بکریوں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں ریبیز کی تصدیق ہوئی، حکام نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر مزید ایسے مقامات کی معلومات بھی سامنے لائی جائیں گی جہاں لوگوں کو متاثرہ جانوروں سے رابطے کا خطرہ رہا ہو۔ریبیز کیا ہے اور کیسے ہوتی ہے؟ماہرین کے مطابق ریبیز ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، تاہم بروقت طبی علاج سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔یہ بیماری عموماً متاثرہ جانور کے کاٹنے یا خراش کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، امریکا میں چمگادڑ، سکنک، ریکون اور لومڑی ایسے جانور ہیں جن میں ریبیز زیادہ پائی جاتی ہے۔