دِشا سالیان کی موت معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ کی اہم پیش رفت، سی بی آئی جانچ کا سنایا فیصلہ

Wait 5 sec.

آنجہانی دِشا سالیان کی موت سے متعلق معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ نے آج انتہائی اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ سالیان کی موت سے متعلق معاملہ میں ’بھارتیہ نیائے سنہیتا‘ (بی این ایس) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا اور تحقیقات کے لیے سی بی آئی افسر کی تقرری کی جائے گی۔ اس سے قبل 28 اگست کو ہوئی سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اب جسٹس سارنگ کوٹوال اور جسٹس رنجیت سنگھ بھوسلے کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 8 جون 2020 کو دشا سالیان کی ممبئی کے ملاڈ میں واقع اپنے دوست کے 14ویں منزل والے فلیٹ سے گرنے کے بعد موت ہو گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات، فلیٹ میں موجود دوست اور دِشا کے منگیتر کے بیانات کے بعد پولیس نے حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ سنگین ہو گیا جب 14 جون کو سشانت سنگھ راجپوت نے باندرہ واقع اپنے گھر پر خودکشی کر لی۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں واقعات کو جوڑ کر دیکھا گیا اور مختلف نظریات اور کہانیاں گردش کرنے لگیں۔ دشا نے اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ بھی کچھ عرصے تک کام کیا تھا۔ ممبئی پولیس نے تفصیلی تحقیقات کے بعد ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔دشا کی موت کے تقریباً 5 سال بعد مارچ 2025 میں والد ستیش سالیان نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ عصمت دری کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ انہوں نے معاملے کی نئے سرے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے پولیس کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا کہ اس معاملے میں اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ پولیس چاہے تو اب بھی مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کر سکتی ہے۔سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے سے جڑی سیاست میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایک والد نے اپنی بیٹی کو کھویا ہے اور عدالت اسی نقطۂ نظر سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ عدالت نے دشا کے والد کے تئیں مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس معاملے میں کلوزر ملنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی تھی کہ دشا کی موت کی 2 بار تحقیقات ہو چکی ہیں اور دونوں بار کلوزر رپورٹ داخل کی گئی۔ تحقیقات میں کوئی مشتبہ بات سامنے نہیں آئی اور موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔ حکومت نے والد کی عرضی کو بے بنیاد بتاتے ہوئے اسے خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔