کیا ٹرمپ نے خدا کا مذاق اڑایا؟ جے ڈی وینس کی متنازع میم پر وضاحت

Wait 5 sec.

واشنگٹن: نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع میم پر وضاحت کر دی ہے کہ صدر نے خدا کا مذاق نہیں اڑایا، اُن کا مقصد خدا کی توہین یا مذاق اڑانا نہیں تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خود کو حضرت عیسیٰؑ کے روپ میں دکھانے والی ایک قابلِ اعتراض تصویر پوسٹ کیے جانے پر ردعمل سامنے آنے کے 4 ماہ سے زیادہ عرصے بعد، نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صدر محض ’’ماحول کو ہلکا پھلکا رکھنے کی کوشش‘‘ کر رہے تھے اور ان کا خدا یا عیسائیوں کا ’’مذاق اڑانے‘‘ کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔وینس نے پیر کے روز برائس کرافورڈ پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے پوسٹ کی گئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصویر کے بارے میں وضاحت کی، اس تصویر میں ٹرمپ سفید اور سرخ رنگ کا لمبا چوغہ پہنے دکھائی دے رہے تھے اور ایک بیمار شخص کو چھو کر اسے شفا دیتے ہوئے نظر آ رہے تھے، تاہم یہ پوسٹ انھوں نے اگلے دن ڈیلیٹ کر دی تھی۔امریکا نے شادی کی تقریب کو نشانہ بنا دیا، ایرانی میڈیا (ویڈیو)میزبان کرافورڈ نے وینس سے کہا ’’میں عیسائی ہوں، میں نے وہ تصویر دیکھی، اس سے مجھے دکھ ہوا۔‘‘ وینس نے فوری طور پر ٹرمپ کے دفاع میں کہا صدر کی کسی کی دل آزاری کی نیت نہیں تھی، وہ عیسائیوں سے محبت کرتے ہیں، اس پوسٹ کا مقصد ہرگز خود کو خدا کے روپ میں پیش کرنا نہیں تھا۔وینس نے ٹرمپ کو ’’ذرا شوخ طبیعت کا آدمی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ بس اچھا وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت سے بہت متاثر ہیں۔انھوں نے اس واقعے کے پس منظر کے بارے میں بتایا کہ ٹرمپ اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ خود سوشل میڈیا نہیں چلاتے، لوگ انھیں مختلف مواد دکھاتے رہتے ہیں، اور وہ سوشل میڈیا پر آنے والی دل چسپ چیزیں پسند کرتے ہیں، یہ میم بھی انھیں مزاحیہ لگی، اسی لیے اسے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کر دیا گیا۔واضح رہے کہ ڈبلیو بی اے ایل کے ڈیٹا صحافیوں کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے گزشتہ سال اوسطاً روزانہ 18 پوسٹس کی گئی تھیں۔