واشنگٹن(2 ستمبر 2026): امریکی ریاست یوٹاہ میں قدامت پسند سیاسی کارکن اور مبصر چارلی کرک کے قتل کے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم ٹائلر رابنسن نے عدالت میں باضابطہ طور پر صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ملزم کی جانب سے الزامات مسترد کیے جانے کے بعد عدالت نے مقدمے کو باقاعدہ ٹرائل کے لیے آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرائل کی حتمی تاریخ کا تعین کرنے کے لیے آئندہ سماعت 23 اکتوبر کو ہوگی، جس میں کارروائی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ قدامت پسند سیاسی کارکن اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک کو 10 ستمبر 2025 کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ٹائلر رابنسن کو حراست میں لے لیا تھا۔اس ہلاکت نے امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی تھی اور ملک بھر میں سکیورٹی اور سیاسی کشیدگی پر گہری بحث چھڑ گئی تھی۔