نیامے (30 اگست 2026): نائجر کے دارالحکومت میں بغاوت کرنے والے فوجیوں نے ایئرپورٹ اور صدارتی محل پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد متحارب دھڑے آمنے سامنے ہیں۔روئٹرز کے مطابق نائجر کے دارالحکومت نیامے میں ہفتے کی صبح سویرے بغاوت کرنے والے فوجیوں نے ایئرپورٹ اور صدارتی محل پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک فائرنگ اور دھماکے ہوتے رہے اور سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو کی نشریات بھی مختصر وقت کے لیے معطل ہو گئیں۔ہفتے کی صبح دیر تک نائجر کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ مسلح افواج رات گئے کیے گئے حملے میں باغی فوجیوں کے قبضے میں جانے والی تنصیبات کو بتدریج دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دوپہر کے وقت بھی باغی فوجی ہوائی اڈے پر موجود تھے اور ہفتے کی رات تک مجموعی صورتِ حال واضح نہیں تھی۔آبناؤں اور جھیلوں پر امریکی نام کا ٹھپہ لگانے کا شوق بھی ٹرمپ کی مقبولیت بچانے میں ناکامیہ حملہ عبدالرحمان تیانی کی حکومت کے لیے تازہ ترین خطرہ ہے، جنھوں نے 2023 کی فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ تیانی نے ساحل کے اس ملک میں، جو یورینیم پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم جہادی حملے جاری رہے ہیں۔سرکاری ٹیلی وژن نے نشریات بحال ہونے کے بعد ایک پیغام نشر کیا، جس میں کہا گیا کہ نیامے کے ایک فوجی اڈے سے بغاوت کرنے والے فوجیوں نے شہر میں ’’حساس مقامات‘‘ پر فائرنگ کی۔ پیغام میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور ’’اس خلل پر قابو پا لیا۔‘‘رواں سال کے آغاز میں القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ سے وابستہ گروہوں نے شہری ہوائی اڈے اور فوجی فضائی اڈے پر حملے کیے تھے۔ بعض سیکیورٹی مبصرین نے ابتدا میں شبہ ظاہر کیا تھا کہ ہفتے کے حملے کے پیچھے بھی عسکریت پسند ہی تھے۔