سپریم کورٹ نے ’ای-20 پٹرول‘ سے متعلق دائر مفاد عامہ (پی آئی ایل) کی ایک عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ عرضی میں پٹرول میں ایتھنول کی مقدار بتانے اور ایتھنول آمیز ایندھن کی گاڑیوں کے ساتھ مطابقت کے بارے میں مزید شفافیت کے لیے ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وکیل نریندر گوسوامی نے یہ عرضی داخل کی تھی۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسننا بی ورالے کی بنچ نے عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا۔ حالانکہ بنچ نے انہیں اپنی شکایت لے کر متعلقہ ہائی کورٹ جانے کی چھوٹ دے دی ہے۔The Supreme Court on Monday refused to entertain a petition seeking a direction that petrol pumps must label the percentage of ethanol blended in petrol being dispensed at fuel stations and that the ethanol content must be printed on fuel bills and receipts.Read more:… pic.twitter.com/fZ41eZuVxF— Live Law (@LiveLawIndia) August 31, 2026عرضی میں مطالبہ کیا گیا کہ پٹرول پمپ کے ہر نوزل پر واضح طور پر لکھا جائے کہ پٹرول میں کتنے فیصد ایتھنول ملایا گیا ہے۔ پٹرول کی رسید یا بل پر بھی ایتھنول کی مقدار درج کی جائے، تاکہ صارف کو معلوم رہے کہ اس نے کون سا پٹرول خریدا ہے۔ اس عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت گاڑی کے لحاظ سے ایک سرکاری فہرست/ڈیٹا بیس تیار کرے، جس میں بتایا جائے کہ کون سی گاڑی ای-20 پٹرول کے لیے موزوں ہے اور کون سی نہیں۔ اس میں کمپنی، ماڈل اور تیاری کا سال وغیرہ کی معلومات شامل ہوں۔ جن پرانی گاڑیوں کے لیے ای-20 موزوں نہیں ہے، ان کے لیے مرحلہ وار ایسی تبدیلی کا انتظام کیا جائے جس کے تحت انہیں کم ایتھنول والا پٹرول دستیاب کرایا جا سکے۔عرضی گزار نے خود اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکز کی ایتھنول ملانے کی پالیسی کو چیلنج نہیں کر رہے ہیں، بلکہ صرف صارفین کو فروخت کیے جانے والے پٹرول میں ایتھنول کی مقدار کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں۔ گوسوامی نے کہا کہ ’’میں پالیسی کو چیلنج نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف جاننا چاہتا ہوں۔ مجھے جاننے کا حق ہے۔ جب ہم بسکٹ کا پیکٹ بھی خریدتے ہیں تو ہمیں اس میں موجود چیزوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔‘‘ای-20 پر راہل گاندھی کا ویڈیو پیغام، کہا- ’دال میں کالا نہیں، پوری دال ہی کالی ہے‘عرضی گزار نے مزید کہا کہ یہ معاملہ شہریوں کے حقوق سے متعلق ہے، نہ کہ کسی ذاتی فائدے سے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ’’ہم جو خرید رہے ہیں، اس کے بارے میں جاننے کا ہمیں حق ہے۔‘‘ جسٹس سندریش کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ بنچ نے گوسوامی سے کہا کہ ’’ہائی کورٹ جائیے اور وہاں عرضی دائر کیجیے۔‘‘