واشنگٹن (30 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین دن قبل کینیڈا کی جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر جھیل امریکا رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے لیکن ان کے اس طرح کے اقدامات بھی امریکیوں میں ان کی مسلسل گرتی مقبولیت کو سہارا نہیں دے سکے۔سی این این نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن قریب آ رہا ہے اور صدر ٹرمپ کی گرتی مقبولیت ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرہ بن گئی ہے، صدر ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم سطح پر برقرار ہے، اور اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ڈیموکریٹس کی ایوان نمائندگان میں برتری حاصل کرنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق مڈ ٹرم الیکشن میں عموما حکمران جماعت کو سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صدر ٹرمپ کے جھیل اونٹاریو کو جھیل امریکا قرار دینے کے اعلان کو بھی پذیرائی نہیں ملی، اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ ٹرمپ کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔یاد رہے کہ تین دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس میں ’لیک اونٹاریو‘ کا نام تبدیل کر کے ’لیک امریکا‘ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ اقدام گزشتہ ہفتے امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جب کہ امریکا نے 20 ارب ڈالر (28 ارب کینیڈین ڈالر) مالیت کی کینیڈین اشیا پر نیا 50 فی صد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اور کینیڈا اگلے ماہ ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کے جوابی محصولات نافذ کرے گا۔جھیل اونٹاریو امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے، ٹرمپ نے دستخط کے بعد کہا ان کا نام تبدیلی کا یہ فیصلہ فوری طور پر مؤثر ہو گیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’چیزوں کو ان کے نام سے پکارا جانا چاہیے، اور اس جھیل کا نام جھیل اونٹاریو ہے، آج بھی اور ہمیشہ کے لیے۔‘‘اس انتظامی حکم نامے میں امریکی محکمۂ داخلہ کو 30 دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ جغرافیائی ناموں کی معلوماتی سروس، جو امریکا میں ملکی جغرافیائی ناموں کا سرکاری ذخیرہ ہے، میں نام کی تبدیلی کو درج کرے۔دوسری طرف مارک کارنی نے کہا کہ جھیل اونٹاریو کا نام 400 سال سے بھی زیادہ عرصے پہلے تک تلاش کیا جا سکتا ہے، اور مزید کہا کہ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن کے قیام اور امریکی اعلانِ آزادی سے بھی پہلے کا ہے۔انھوں نے کہا ’’ہم جانتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکا تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے تجارتی تعلقات، ان کی خارجہ پالیسی، ان کی قومی یادگاریں، ان کے آبی جغرافیائی نام۔ لیکن کینیڈین خواتین اور مرد بھی جانتے ہیں کہ چیزوں کو ان کے نام سے پکارا جانا چاہیے، اور اس جھیل کا نام جھیل اونٹاریو ہے۔‘‘واضح رہے کہ بین الاقوامی پانیوں کے نام مقرر کرنے والا کوئی ایسا عالمی سطح پر تسلیم شدہ ادارہ موجود نہیں جو ان ناموں کا تعین کرتا ہو۔ جب ٹرمپ نے 2025 میں وائٹ ہاؤس کا منصب سنبھالا تو انھوں نے اسی نوعیت کے ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے ذریعے خلیجِ میکسیکو (گلف آف میکسیکو) کا نام تبدیل کر کے خلیج امریکا کر دیا گیا تھا۔میکسیکو نے نام کی اس تبدیلی کو مسترد کر دیا، اس مؤقف کے ساتھ کہ ایک ملک مشترکہ بین الاقوامی آبی خطے کا نام تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس معاملے نے میکسیکو اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی گوگل کے درمیان بھی ایک قانونی تنازع کو جنم دیا ہے، کیوں کہ گوگل نے اپنی نقشہ جات کی ایپلی کیشن میں خلیج کا نام تبدیل کر دیا تھا۔اس معاملے میں امریکا میں گوگل میپس استعمال کرنے والے صارفین کو ’’خلیجِ امریکا‘‘ نظر آتا ہے، جب کہ میکسیکو میں موجود صارفین کو ’’خلیجِ میکسیکو‘‘ نظر آتا ہے۔ دوسرے ممالک میں موجود صارفین کو ’’خلیجِ میکسیکو (خلیجِ امریکا)‘‘ دکھائی دیتا ہے۔