تہران (30 اگست 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا ذرائع ابلاغ کے ذریعے عالمی انرجی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے اور جنگ کو طول دینے کے لیے توانائی کی منڈی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا اسرائیل سے منسلک بعض عناصر موجودہ صورت حال کے حوالے سے امید افزا جائزے پیش کر رہے ہیں، تاہم جنگ کے حقیقی اثرات اور اس کے معاشی نتائج امریکی عوام بالخصوص صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔وزیر خارجہ ایران نے کہا موجودہ صورت حال میں حقائق کو سامنے لانے اور جنگ کے معاشی اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جنگ کے حوالے سے پیش کیے جانے والے بعض دعوؤں کے برعکس اس کے مالی اور معاشی اثرات کا اصل بوجھ امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے۔آبناؤں اور جھیلوں پر امریکی نام کا ٹھپہ لگانے کا شوق بھی ٹرمپ کی مقبولیت بچانے میں ناکامعراقچی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا ’’ہماری انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی منڈیوں میں جوڑ توڑ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘انھوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی حکومت کے بعض ناصر ’’آسانی سے گمراہ ہونے والے ذرائع ابلاغ‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے ذاتی فائدے کے لیے توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’ایک ایسی جنگ میں الجھائے رکھنے‘‘ کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ شکست سے دوچار ہو رہے ہیں۔عراقچی نے کہا، ’’اسرائیل سے ہم آہنگ عناصر بھی خوش کن تجزیوں کے ذریعے جنگ کو فروغ دے رہے ہیں،‘‘ اور مزید کہا کہ امریکی صارفین اس کے معاشی نتائج محسوس کر رہے ہیں۔