ہماری لڑائی بی جے پی-آر ایس ایس کے اس نظریے کے خلاف ہے، جو امتیاز اور عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے: راہل گاندھی

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ملک میں دلتوں پر بڑھتے مظالم اور توہین آمیز سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ملک میں 2 نظریات کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ ایک آئین کا نظریہ اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ۔ اس ملک میں ہزاروں سال سے دلتوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ آج آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ تشدد کیا جا رہا ہے جو غیر قانونی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلاء صاف کرایا جاتا ہے اور ان سے جھاڑو لگوائی جاتی ہے۔ دلتوں کو کنوؤں سے پانی نہیں لینے دیا جاتا، اتنا ہی نہیں چائے کی دکان پر بھی دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور بارات میں گھوڑے پر سوار ہونے کے معاملے پر انہیں مارا پیٹا اور دھمکایا جاتا ہے۔‘‘देश में दो विचारधाराओं के बीच लड़ाई चल रही है।• संविधान की विचारधारा• BJP-RSS की विचारधाराइस देश में हजारों साल से दलितों पर अत्याचार हो रहा है। आज संविधान लागू होने के बाद भी उनके साथ हिंसा की जा रही है, जो कि गैरकानूनी है।देश के कई स्कूलों में दलित बच्चों से टॉयलेट… pic.twitter.com/PbVe9t3YFB— Congress (@INCIndia) August 29, 2026راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ایک دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے اس پر اتنی ہی طاقت کے ساتھ حملہ ہوتا ہے۔ یہ روزانہ کروڑوں لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے چند واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے راجستھان کانگریس کے سی ایل پی ٹیکارام جولی مندر جاتے ہیں، بی جے پی کے لیڈر شدھی کرن کرتے ہیں۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں جلسۂ عام سے خطاب کرنے جاتے ہیں وہاں شدھی کرن ہوتا ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی مندر جاتے ہیں تو وہاں بھی شدھی کرن ہوتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ کرتے ہیں اور ہندوستان کے آئین کے مطابق یہ جرم ہے۔एक दलित व्यक्ति जितना सफल होता है, उस पर उतनी ही ताकत के साथ आक्रमण होता है। ये हर रोज करोड़ों लोगों के साथ होता है। ⦿ हमारे राजस्थान कांग्रेस के CLP टीकाराम जूली जी मंदिर जाते हैं, BJP के नेता शुद्धिकरण करते हैं⦿ कांग्रेस अध्यक्ष मल्लिकार्जुन खरगे जी हल्द्वानी के रामलीला… pic.twitter.com/gDfGkJjr6b— Congress (@INCIndia) August 29, 2026پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’8 اگست کو کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کی ہلدوانی میں ریلی ہوتی ہے اور 10 اگست کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ ان کی تقریر کے اسٹیج کا شدھی کرن کرتے ہیں۔ اس واقعہ کے بارے میں 13 اگست کو کانگریس صدر پارلیمنٹ میں بتاتے ہیں کہ شدھی کرن کا یہ واقعہ جرم ہے۔ یہ میری اور ملک کے ہر دلت کی توہین ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر کھل کر کہتے ہیں کہ شدھی کرن کیا گیا ہے اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘8 अगस्त को कांग्रेस अध्यक्ष श्री मल्लिकार्जुन खरगे की हल्द्वानी में रैली होती है और 10 अगस्त को BJP-RSS के लोग उनके भाषण मंच का शुद्धिकरण करते हैं।इस घटना के बारे में 13 अगस्त को खरगे जी संसद में बताते हैं कि शुद्धिकरण की घटना अपराध है और यह मेरा व देश के हर दलित का अपमान है।… pic.twitter.com/K2XABUiQiV— Congress (@INCIndia) August 29, 2026راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’ شدھی کرن ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت جرم ہے، لیکن 20 دن گزر چکے ہیں اور اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اتراکھنڈ میں جن لوگوں نے شدھی کرن کیا ہے، ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کے ہیں لیکن اتراکھنڈ میں بی جے پی کے سربراہ کہہ رہے ہیں کہ شدھی کرن کرنا درست تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی حکم دیں کہ شدھی کرن کرنے والے لوگوں کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔‘‘ ان کے مطابق آج لڑائی آئین اور بی جے پی-آر ایس ایس کے نظریے کے درمیان ہے اور ’شدھی کرن‘ کا واقعہ ان کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ نہیں چاہتے کہ ملک کے دلت ترقی کریں، کامیاب ہوں اور عزت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ یعنی ان کے قول و فعل میں فرق صاف طور پر نظر آتا ہے۔शुद्धिकरण SC/ST act के तहत अपराध है, लेकिन 20 दिन हो गए हैं और अभी तक कोई कार्रवाई नहीं हुई है। हमारी मांग है- जिन लोगों ने उत्तराखंड में शुद्धिकरण किया है, उनके खिलाफ FIR दर्ज हो। नरेंद्र मोदी कहते हैं- वो हर जाति के हैं लेकिन उत्तराखंड में BJP का चीफ कह रहा है कि शुद्धिकरण… pic.twitter.com/SP7dFaCWnX— Congress (@INCIndia) August 29, 2026حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے واضح طور پر کہا کہ ’’یہ صرف کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان کے ہر دلت شخص سے جڑا مسئلہ ہے۔ اگر ہمارے قومی صدر کے ساتھ کھلے عام، بلا جھجھک ایسا سلوک کیا جا سکتا ہے تو ذرا سوچیے... اسکول میں کسی بچے کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا؟ یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہماری لڑائی بی جے پی-آر ایس ایس کے اس نظریے کے خلاف ہے، جو امتیاز اور عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر بی جے پی کارروائی کرنے میں ناکام بھی رہتی ہے تو پوری کانگریس پارٹی اس شخص کو بچ نکلنے نہیں دے گی، میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ये सिर्फ कांग्रेस अध्यक्ष मल्लिकार्जुन खरगे जी का मुद्दा नहीं है, बल्कि ये हिंदुस्तान के हर दलित व्यक्ति से जुड़ा मुद्दा है।अगर हमारे राष्ट्रीय अध्यक्ष के साथ खुलेआम, बिना झिझक के ऐसा व्यवहार किया जा सकता है तो सोचिए... स्कूल में बच्चे के साथ क्या हो रहा होगा?ये हमारे लिए… pic.twitter.com/ktnQMIKHMP— Congress (@INCIndia) August 29, 2026راہل گاندھی کے علاوہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر گوتم نے بھی دلت کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریباً 80 سال ہو گئے ہیں، لیکن آج بھی ملک میں گھڑے کو چھو لینے، مونچھ رکھنے، مورتی کو چھو لینے اور گھوڑے پر بارات نکالنے پر دلتوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ملک کی موجودہ صدر کو دہلی کے ایک مندر کے اندر تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’حال ہی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہلدوانی میں ایک جلسہ کیا تھا، لیکن جلسہ ختم ہونے کے بعد ان کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کیا گیا۔ جب کانگریس صدر نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھایا تو جے پی نڈا نے کہا کہ ہم اسے قبول نہیں کرتے اور اگر ایسا ہوا ہے تو ہم کارروائی کریں گے۔ لیکن ان ہی کی پارٹی کے لیڈر اور اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر مہندر بھٹ ’شدھی کرن‘ کے اس واقعے کو جائز قرار دیتے ہیں۔‘‘भारत को आजाद हुए करीब 80 साल हो गए, लेकिन आज भी देश में घड़ा छू लेने, मूंछ रखने, मूर्ति छू लेने और घोड़े पर बारात निकालने पर दलित के अत्याचार किया जाता है।यहां तक कि देश की वर्तमान राष्ट्रपति को दिल्ली के मंदिर में अंदर तक नहीं जाने दिया गया। हाल ही में, कांग्रेस अध्यक्ष… pic.twitter.com/sQmIJxkzic— Congress (@INCIndia) August 29, 2026