’ایوریسٹ‘ کمپنی کی ہینگ پر ایف ایس ایس اے آئی نے لگائی پابندی، گرم مصالحہ اور چکن مصالحہ میں بھی ملی گڑبڑی

Wait 5 sec.

ایف ایس ایس اے آئی یعنی ’فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈس اتھارٹی آف انڈیا‘ نے 2 بڑے مصالحہ برانڈز ’ایوریسٹ‘ اور ’لال جی گودھو‘ کی کمپاؤنڈڈ ہینگ کی فروخت پر روک لگانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں کمپنیوں کی ہینگ کے نمونے جانچ میں مقررہ معیارات سے کم پائے جانے کے بعد لیا گیا ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی صرف ہینگ کی مصنوعات پر نافذ ہے اور ان کمپنیوں کے انڈا کری مصالحہ، چکن کری مصالحہ یا گرم مصالحہ جیسی دیگر مصنوعات پر کوئی روک نہیں ہے۔ یہ جانچ ایک صارف کی شکایت کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے بعد پورے بازار میں موجود ہینگ کے برانڈز کی جانچ کی گئی۔STORY | FSSAI bans Everest Food Products, Laljee Godhoo from selling hing powderFood regulator FSSAI on Saturday said it has prohibited Everest Food Products Pvt Ltd and Laljee Godhoo from selling hing powder, which it found to be sub-standard.READ: https://t.co/3GjuKI4tIB pic.twitter.com/KCxXvZi49Q— Press Trust of India (@PTI_News) August 29, 2026اس معاملے کی شروعات اس وقت ہوئی جب ایک صارف نے کسی مخصوص برانڈ کی ہینگ کے معیار کو لے کر شکایت درج کرائی۔ اس کے بعد ایف ایس ایس اے آئی نے بازار میں موجود تمام بڑے ہینگ برانڈز کی جانچ شروع کی۔ ابتدائی لیب رپورٹ میں سامنے آیا کہ ایوریسٹ اور لال جی گودھو، دونوں کمپنیوں کی کمپاؤنڈیڈ ہینگ مقررہ معیارات پر پوری نہیں اتری۔ اس کے بعد ممبئی میں واقع ان دونوں کمپنیوں کی مرکزی لائسنس یافتہ یونٹس سے نمونے لیے گئے اور جانچ کے لیے بھیجے گئے۔ یہی نہیں، گجرات کے امبرگاؤں میں ایوریسٹ کی ایک اور یونٹ پر گجرات کے ریاستی محکمۂ خوراک کے ساتھ مل کر نمونے لیے گئے۔ جانچ میں تمام نمونے ناقص معیار کے پائے گئے۔ضابطے کے مطابق کمپاؤنڈیڈ ہینگ بنانے کے لیے اصلی ہینگ کو گوند، نشاستے اور آٹے کے ساتھ ملایا جاتا ہے، لیکن اس میں کم از کم 5 فیصد الکحل سولیوبل ایکسٹریکٹ ہونا ضروری ہے۔ جانچ میں پایا گیا کہ ان کمپنیوں کی مصنوعات میں یہ مقدار صرف 0 سے 3 فیصد تھی، یعنی اصلی ہینگ مقررہ مقدار سے تقریباً 30 سے 40 فیصد کم ملائی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ لال جی گودھو کی یونٹ سے لیے گئے اصلی ہینگ کی 6 اقسام کی بھی جانچ کی گئی۔ قواعد کے مطابق اصلی ہینگ میں نشاستے کی مقدار ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن جانچ میں ان 6 اقسام میں نشاستے کی مقدار 15 سے 32 فیصد تک پائی گئی، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔ان سنگین بے ضابطگیوں کو دیکھتے ہوئے ایف ایس ایس اے آئی نے دونوں کمپنیوں پر فروخت کی پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔ پورے ملک میں ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی ہینگ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ قدم صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک احتیاطی کارروائی ہے۔ ساتھ ہی دونوں کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ وہ کس طرح اپنی غلطی کو درست کریں گی اور آئندہ معیارات کے مطابق ہی ہینگ تیار کریں گی۔ کمپنیوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بازار میں موجود ناقص ہینگ کو خود ہی واپس منگوا لیں۔