نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 626 تک پہنچ گئی

Wait 5 sec.

کٹھمنڈو: نیپال کے سرحدی علاقے میں تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا، مرنے والوں کی تعداد 626 تک پہنچ گئی۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 977 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں 517 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔نیپالی سیّاحتی بورڈ کے مطابق اب تک 121 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے جن میں 2 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔بھارتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نیپال میں آنے والے سیلاب کے سبب 320 بھارتی شہری تاحال لاپتہ ہیں۔دوسری جانب نیپال اورچین میں ملبے سے بننے والی جھیلوں سے ایک اور بڑی آفت کا خطرہ منڈلانے لگا، جھیل میں طغیانی سے مزید سیلاب آسکتا ہے۔نیپال اور چین کے درمیان ہمالیائی خطے میں تباہ کن سیلاب کے بعد مزید سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جہاں ملبے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔حکام نے ممکنہ نئے سیلاب کے پیش نظر نگرانی اور احتیاطی اقدامات تیز کردیے ہیں اور جھیل پھٹنے اور مزید تباہی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں دریا میں ملبہ جمع ہونے سے ایک مصنوعی جھیل وجود میں آگئی ہے، جس میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ جھیل کے ممکنہ طور پر پھٹنے سے زیریں علاقوں میں دوبارہ شدید سیلاب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں نیپال میں سینکڑوں افراد ہلاک جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں، ریسکیو ٹیمیں ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم مزید سیلاب کے خدشے نے امدادی کارروائیوں کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔چین نے بھی تبت کے سرحدی علاقے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ جھیل میں مزید پانی داخل ہونے کی توقع ہے، جس سے اس کے کنارے ٹوٹنے اور نئے سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب کے بعد ایک اور بڑی آفت کا خطرہرپورٹس کے مطابق پانی کا بہاؤ یکم ستمبر کے آس پاس بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر چینی حکام نے صورتحال پر کڑی نظر رکھنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ متوقع بارشوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی پانی کی سطح کے باعث ہمالیائی خطے میں ثانوی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بدستور موجود ہے۔