امریکا دھمکیاں دینا چھوڑے تو بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، کینیڈا

Wait 5 sec.

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا کو تجارتی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے سنجیدگی دکھانا ہو گی۔امریکا سے تجارتی کشیدگی اور ٹیرف عائد کرنے پر کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ امریکا دھمکی آمیز رویہ ترک کرے تو بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، امریکا کے حالیہ اقدامات کسی طور بھی تعمیری نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا باہمی فائدے اور عزت پر مبنی تجارتی معاہدہ کرنےکو تیار ہے کینیڈا کی اہم صنعتوں کو امریکی کمپنیوں کا ماتحت بنانےکی شرائط قابل قبول نہیں ہیں۔ٹیرفکینیڈا نے سمتبر سے امریکی مصنوعات پر پچاس فیصد تک جوابی ٹیرف عائد کر دیا، ٹیرف اسٹیل، ڈیری، الیکٹرانکس، زرعی آلات اور پلپ اینڈ پیپر کی مصنوعات پر عائد کیا جائے گا۔امریکہ اور اس کے پڑوسی ملک کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ، کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر 50 فیصد تک جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو کہ ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔خبر ایجنسی رائٹرز نے بتایا کہ کینیڈا ستمبر سے امریکی درآمدات پر 50 فیصد تک جوابی ٹیرف لاگو کرے گا۔کینیڈا کا یہ جوابی ٹیرف اسٹیل، ڈیری، الیکٹرانکس، زرعی آلات اور پلپ اینڈ پیپر کی مصنوعات پر عائد کیا جائے گا۔تجارتی جنگ کے اثرات سے اپنے کاروباری اداروں اور متاثرین کو بچانے کے لیے کینیڈا نے 7.5 ارب ڈالر کے ریلیف پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔اس سے قبل امریکہ نے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے جس کی مالیاتی مالیت تقریباً 27.6 ارب ڈالر بنتی ہے، جس کے جواب میں کینیڈا نے یہ قدم اٹھایا ہے۔