امریکا کا ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان

Wait 5 sec.

واشنگٹن (1 ستمبر 2026): امریکا نے ایران پر حالیہ حملے کے بعد تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھائے گا، آئندہ 2 ہفتے میں تہران کے دو بینکوں پر پابندیاں لگیں گی، پاسداران انقلاب سے کاروبار کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی حکومت کے مزید اثاثے منجمد کرنے کیلیے اتحادیوں سے مل کر کام جاری ہے، امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کیلیے چین سے بات کر رہا ہے، چین سے آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی یقینی بنانے کیلیے بھی بات کر رہے ہیں۔ایران کا امریکی پابندیوں پر ردعملدو روز قبل ایران کی وزارت خارجہ نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں معاشی دہشتگردی اور ریاستی دہشتگردی کی نئی لہر قرار دیا۔ تہران کی جانب سے تمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ امریکی یکطرفہ پابندیوں کے نفاذ سے مکمل گریز کریں۔ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ ڈالر کو بطور آلہ استعمال کرنا دیگر اقوام کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے، یہ پابندیاں نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور عالمی تعاون کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں بھی آتی ہیں۔ایران نے خبردار کیا کہ اس قسم کے رویے اور اقدامات کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، جو پوری انسانی تہذیب کو غیر معمولی خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔