امریکا میں شٹ ڈاؤن سے متعلق اہم خبر

Wait 5 sec.

واشنگٹن (02 ستمبر 2026): ٹرمپ انتظامیہ کو ریلیف مل گیا ہے اور حکومتی شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا ہے۔وسط مدتی انتخابات سے قبل حکومتی شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان نے فنڈنگ بل منظور کر لیا، کیوں کہ نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ موجودہ فنڈنگ کی مدت ختم ہو جائے گی۔روئٹرز کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان نے منگل کے روز بھاری اکثریت سے سرکاری فنڈنگ میں توسیع کا بل منظور کر لیا، جس کے ذریعے وفاقی اداروں کے کام کو یکم اکتوبر کے بعد بھی جاری رکھا جا سکے گا۔ایوان نے 48 کے مقابلے میں 370 ووٹوں سے موجودہ سرکاری اخراجات کو 11 دسمبر تک جاری رکھنے کی توسیع منظور کر لی اور اسے قانون کی شکل دینے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا۔ سینیٹ اس اقدام کی منظوری 8 اگست کو دے چکا ہے۔ٹائم اسکوائر پر چاقو حملے میں بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاکواضح رہے کہ موجودہ بل میں ریپبلکنز نے آئس اور بارڈر کنٹرول کے لیے فنڈنگ نہیں مانگی ہے، کئی ڈیموکریٹس ارکان نے بھی بل کی مشترکہ حمایت کی ہے، یاد رہے کہ ڈیموکریٹس کی عدم حمایت پر موجودہ دور میں طویل ترین شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے۔ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی کانگریس پر خاص طور پر شدید نوعیت کی سیاسی کشمکش چھائی رہی ہے، جس میں کانگریس پر قابض ری پبلکنز اور ایوانِ نمائندگان و سینیٹ میں موجود ڈیموکریٹک اقلیت کے درمیان سخت اختلافات نمایاں رہے ہیں۔اس کا نتیجہ حکومت کے تین جزوی شٹ ڈاؤنز کی صورت میں نکلا، جن کا مجموعی دورانیہ غیر معمولی طور پر 161 دن رہا۔ دونوں جماعتیں صحت بیمہ کی سبسڈیز اور وفاقی امیگریشن افسران کے نفاذِ قانون کے اختیارات پر نگرانی سے متعلق معاملات پر ایک دوسرے سے برسرِپیکار رہیں۔اس مرتبہ نہ ری پبلکنز اور نہ ہی ڈیموکریٹس چاہتے تھے کہ چوتھے حکومتی شٹ ڈاؤن کا سایہ ان پر اس وقت منڈلاتا رہے جب وہ دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ایسا شٹ ڈاؤن ان ووٹروں کو مزید مشتعل کر سکتا تھا جو پہلے ہی خوراک اور رہائش کی بلند قیمتوں، ایران کے خلاف امریکی جنگ اور غیر ملکی اشیا پر عائد ان محصولات سے ناراض ہیں جن کا خاص طور پر کسانوں پر شدید اثر پڑا ہے۔