ترکیے نے صدر رجب طیب اردوان کو ہدف بنانے سے متعلق اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے بیان کی شدیدمذمت کی ہے۔ترک وزارتِ خارجہ نے بیان کو جھوٹ اور بہتان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی بیان نیتن یاہو حکومت کی بزدلانہ اور بدعنوان ذہنیت کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کرنے والی نیتن یاہو کی حکومت قانونی اور سیاسی دونوں محاذ پر اپنی بےگناہی کا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہی ۔ترکیہ کا بڑا فیصلہ، نیتن یاہو کے عالمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےاردوان آفسترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے آفس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے غلط بیانات اس کی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ترک صدر کے آفس نے بیان میں کہا کہ نتن یاہو کے دفتر کے غلط بیانات جنگی جرائم پر احتساب سے بچنے کی کوشش ہیں، انقرہ کو خطرے کے طور پر پیش کرنا نیتن یاہو کا سستا سیاسی ہتھکنڈا اور انتخابی مہم کا حصہ ہے۔ترک صدر آفس نے نیتن یاہو کے بیانات کو ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف سیاسی مہم کا حصہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کے روز ترک صدر رجب طیب اردوان کو ’’یہود مخالف آمر‘‘ قرار دیا تھا اور عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل ’’خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ترکی کی کوششوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گا۔‘‘یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل شام نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیل نے ملک کے شمال میں، ترک سرحد سے مختصر فاصلے پر واقع ایک فضائی اڈے پر بمباری کی ہے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے بھی بالواسطہ طور پر اس حملے کا اعتراف کیا تھا۔