دہلی میں سی این جی کی قیمت بڑھنے کے بعد ٹیکسی ڈرائیوروں کا غصہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ 29 اگست سے سی این جی کی قیمت 3.89 روپے فی کلو بڑھ کر 86.98 روپے ہو گئی ہے، جس کے خلاف ’چالک شکتی یونین‘ نے اب دہلی کی سڑکوں پر اترنے کا اعلان کیا ہے۔ یونین کے مطابق 3 ستمبر کو بڑا اور پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایندھن مسلسل مہنگا ہو رہا ہے لیکن ان کی آمدنی پرانے کرایے کے حساب سے ہی چل رہی ہے۔CNG के दाम बढ़े तो टैक्सी चालकों ने खोला मोर्चा, दिल्ली में 3 सितंबर को प्रदर्शन#CNG #DelhiNews #ABPNews @ReporterUjjwalK https://t.co/mUCoNRndh8— ABP News (@ABPNews) August 30, 2026دہلی میں اس سے قبل سی این جی 83.09 روپے فی کلو مل رہی تھی۔ اب قیمت بڑھ کر 86.98 روپے ہو گئی ہے۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دن بھر سڑک پر گاڑی چلانے کے دوران سی این جی کی کھپت کافی ہوتی ہے۔ ایسے میں ہر کلو پر بڑھے 3.89 روپے کا براہ راست اثر ان کے روزانہ اور ماہانہ ایندھن کے خرچ پر پڑ رہا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پریشانی صرف سی این جی تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں گاڑی کا بیمہ، سروسنگ، اسپیئر پارٹس، ٹائر اور دیگر دیکھ بھال کے اخراجات بھی مسلسل بڑھے ہیں۔ دوسری جانب سٹی ٹیکسی کا کرایہ تقریباً 15 سال سے نہیں بڑھایا گیا ہے۔ یعنی آمدنی پرانے کرایے کے حساب سے ہے، جبکہ گاڑی چلانے کا خرچ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔’مہنگائی مین مودی کا ہنٹر پھر چلا ہے‘، دہلی-این سی آر میں سی این جی کی قیمت میں تازہ اضافے پر کانگریس کا سخت ردعمل’چالک شکتی یونین‘ کا کہنا ہے کہ بڑھتی لاگت کے مقابلے میں موجودہ ٹیکسی کرایہ اب کافی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونین حکومت سے سٹی ٹیکسی کے کرایے میں فوری طور پر مناسب ترمیم کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یونین نے حکومت کو 2 ستمبر تک کرایے میں اضافے کا فیصلہ کرنے کی مہلت دی ہے۔ کرایہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر ٹیکسی ڈرائیور پہلے بھی احتجاج کر چکے ہیں۔ چالک شکتی کے مطابق 21، 22 اور 23 مئی 2026 کو علامتی ہڑتال اور احتجاج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 22 مئی کو اسپیشل ٹرانسپورٹ کمشنر کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی۔ یونین کا دعویٰ ہے کہ اس میٹنگ میں سٹی ٹیکسی کے کرایے میں ترمیم کے سلسلے میں جلد کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن اس کے بعد کرایے میں اضافے کو لے کر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔قابل ذکر ہے کہ اب سی این جی کی قیمت میں ہوئے نئے اضافے نے اس پرانے معاملے کو پھر گرما دیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اگر 2 ستمبر تک حکومت نے سٹی ٹیکسی کے کرایے میں مناسب اضافے کا فیصلہ نہیں لیا تو 3 ستمبر کو دہلی کی سڑکوں پر بڑے پیمانے پر پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کی ناراضگی کی وجہ صاف ہے، ایک طرف سی این جی سمیت گاڑی چلانے کا خرچ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف مسافروں سے ملنے والا کرایہ طویل عرصے سے پرانی سطح پر ہے۔ ایسے میں 29 اگست سے نافذ سی این جی کی 3.89 روپے فی کلو کی قیمت میں اضافے نے ڈرائیوروں کی تشویش مزید بڑھا دی ہے۔ اب نظر حکومت کے اگلے قدم پر ہے کہ 2 ستمبر کی مہلت سے پہلے کرایے کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوتا ہے یا پھر 3 ستمبر کو ٹیکسی ڈرائیور اپنے مطالبات کے ساتھ دہلی کی سڑکوں پر اترتے ہیں۔