نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے منگل کو ایسّیل گروپ کے چیئرمین سبھاش چندرا سے متعلق دیوالیہ پن کے معاملے میں اپنے 25 اگست کے حکم پر روک لگا دی ہے۔ ساتھ ہی حکم دیا ہے کہ وہ بطور ضامن اپنے املاک کو بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر منتقل نہ کریں۔ معاملے کی سماعت کر رہے 3 رکنی بنچ کی جانب سے جاری حکم میں اختلاف رائے سامنے آنے کے بعد اس معاملے کو این سی ایل ٹی کی 5 رکنی خصوصی بنچ کے سامنے پیش کیا گیا۔Breaking: New 5-Member Bench Of NCLT Delhi Stays Approval Of #SubhashChandra ₹6.25 Cr Repayment Planhttps://t.co/XcO4fP7O6B— Live Law (@LiveLawIndia) September 1, 2026واضح رہے کہ خصوصی بنچ نے منگل کو معاملے کی سماعت شروع کی اور حکم دیا کہ پہلے کے احکامات میں اختلاف رائے تھا اور کوئی واضح اکثریت نہیں تھی، جسے نافذ کیا جا سکے۔ اس وجہ سے خصوصی بنچ نے این سی ایل ٹی کے سابقہ حکم یعنی 22006 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کو 6.26 کروڑ روپے میں ختم کرنے پر روک لگا دی۔ اس کے علاوہ سبھاش چندرا کو اپنی جائیداد فروخت کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ این سی ایل ٹی نے اس معاملے سے متعلق تمام فریقوں کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔22 ہزار کروڑ کا دعویٰ لیکن ملے صرف 6.5 کروڑ روپے، جے رام رمیش نے این سی ایل ٹی کے فیصلہ پر اٹھایا سوالپرانے حکم کے تحت این سی ایل ٹی نے سبھاش چندرا سے متعلق 22,006 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کا تصفیہ محض تقریباً 6.25 کروڑ روپے کی ادائیگی پر کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ یہ قرض چندرا کے ذاتی قرض نہیں ہیں، لیکن چندرا ان قرضوں کے ضامن (گارنٹر) ہیں۔ ایسے میں این سی ایل ٹی نے اپنے حکم میں صرف 6.25 کروڑ روپے میں قرض کا تصفیہ کرنے کا حکم دیا تھا اور دیوالیہ پن کی کارروائی ختم کرنے کا راستہ صاف کر دیا تھا۔ اس کے بعد کئی سوال اٹھے، جن میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اتنے بڑے قرض کا اتنی کم رقم کی ادائیگی کے ساتھ کیسے تصفیہ کیا جا سکتا ہے۔