نیپال : سیلاب میں لاپتا بیٹے کی تلاش، خاندان کی دردناک کہانی

Wait 5 sec.

چٹوان : نیپال کے قیامت خیز سیلاب میں والدین 4 دن سے لاپتا بیٹے کو زندہ تلاش کرنے کی لگاتار کوششوں کے بعد بالآخر تھک ہار کر بیٹھ گئے، بعد ازاں متعلقہ حکام کو لاش مل گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 21 سالہ سرکاری ملازم ایوش کھڑکا کے اہل خانہ اور رشتہ دار مسلسل 4 دن تک اسے زندہ لوگوں میں تلاش کرتے رہے، تاہم بالآخر انہیں معلوم ہوا کہ حکام نے پہلے ہی ایک ایسی لاش برآمد کرلی تھی جس پر ایوش کی لاش ہونے کا کافی حد تک یقین تھا۔نیپالی میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر معمولی سیلاب کے نتیجے میں اب تک کم و بیش ایک ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 4 ہزار لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ایوش کھڑکا نے سیلاب سے ایک رات قبل اپنے اہل خانہ سے بات کی تھی۔ اگلی صبح اس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ آن لائن دکھائی دیا تو اہل خانہ کو امید بندھی کہ شاید وہ محفوظ ہے اور سیلاب سے بچ گیا ہے۔26اگست کو علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایوش کے اہل خانہ نے فوری طور پر اس کی تلاش شروع کردی۔اس کے چچا دو روز تک نیپالی فوج کی بیرک کے قریب موجود رہے، جہاں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری تھا۔انہوں نے حکام کو بارہا ایوش کا نام، اس کا ادارہ اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا تاہم خاندان کو اس حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔دوسری جانب ایوش کی خالہ لکشمی تھاپا تقریباً 200 کلومیٹر دور چتوان میں قائم ایک کیمپ میں اس کو تلاش کررہی تھیں، جہاں سیلابی ریلے میں بہہ کر آنے والی لاشیں لائی جارہی تھیں۔تاہم اس غمزدہ خاندان کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ متعلقہ حکام سیلاب کے پہلے روز ہی ایک ایسی لاش برآمد کرچکے تھے جس کے بارے میں غالب گمان یہی تھا کہ یہ ایوش کی ہے۔27اگست کو متوفی کی خالہ لکشمی ایک عارضی مرکز پہنچیں جہاں برآمد ہونے والی لاشوں کی تصاویر ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھائی جارہی تھیں تاکہ ان کے لواحقین شناخت کرسکیں۔لکشمی کی نظر ایک تصویر پر پڑی تو وہ ٹھٹھک کر رہ گئیں، ان کے مطابق انہیں تقریباً 70 فیصد یقین تھا کہ تصویر میں موجود شخص ایوش ہی ہے۔انہوں نے یہ تصویر اس کے چچا اور دیگر رشتہ داروں کو بھیجی تاکہ وہ بھی شناخت میں مدد کرسکیں، تاہم خاندان نے جان بوجھ کر یہ خبر اور تصویر ایوش کی غمزدہ والدہ منا کھڑکا کو نہیں دکھائی۔چار دن تک جاری رہنے والی تلاش کے دوران خاندان امید اور خوف کے درمیان مبتلا رہا، جو اب ختم ہوگئی اور ایوش کی آخری رسومات ادا کردی گئیں، نیپال کے اس تباہ کن سیلاب نے اس جیسے ہزاروں خاندانوں کو اپنے پیاروں کی خبر کے انتظار میں چھوڑ دیا ہے۔نیپال: تین روز بعد 6 سالہ بچی سیلابی ملبے سے زندہ نکل آئی!