نئی دہلی : نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر پھٹنے اور شدید سیلاب کے بعد بھارت کی قریبی ریاستوں بہار اور اتر پردیش میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیپال سے آنے والے پانی کے ریلوں کے پیشِ نظر بھارتی ریاستوں بہار اور اتر پردیش کے سرحدی اضلاع میں انتظامیہ کو انتہائی مستعد کردیا گیا ہے۔نیپال سے منسلک دریاؤں کے بندوں، بیراجوں اور پلوں کی 24 گھنٹے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ متعلقہ حکام نے زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز کردی ہیں۔واضح رہے کہ نیپال سے بہار میں کئی بڑے دریا بہتے ہیں، جن میں خاص طور پر دریائے گنڈک (جسے نارائنی بھی کہا جاتا ہے) اور دریائے کوسی شامل ہیں۔یہ دریا ہمالیہ اور تبت سے نکلنے کے بعد ہندوستانی میدانی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں، سیلاب کے الرٹ کے درمیان بہار نے ایڈوائزری جاری کی۔یاد رہے کہ نیپال سے اتر پردیش میں بہنے والے بڑے دریاؤں میں گھاگھرا (کرنالی)، شاردا (کالی)، گنڈک اور راپتی شامل ہیں۔نیپال ٹور ازم بورڈ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے سے کم از کم384 مسافر لاپتہ بتائے جاتے ہیں، جن میں291 غیرملکی اور93 نیپالی شہری شامل ہیں۔حکام کے مطابق غیرملکیوں میں 105 بھارتی شہری ہیں، نیپالی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلاب کا پانی سرحد کے تبت والے حصے سے آیا، جس نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا اور نیپال کے کئی دیہات بہا کر لے گیا۔نیپال سیلاب : ناقابل شناخت لاشوں کی اجتماعی تدفین، دل دہلا دینے والے مناظر