ایران کو اپنے مفادات کیلئے لڑتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، پیوٹن

Wait 5 sec.

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے مفادات کیلئے لڑتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے بدقسمتی سے جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکی۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی روسی ہم منصب سے ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو ایران بھی پاسداری کےلیے تیار ہے امریکی اقدامات غیرقانونی ہیں، ایران یکطرفہ جارحیت کے خلاف لڑ رہا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ روس، ایران اسٹریٹجک شراکت دار ہیں دونوں امریکی یکطرفہ کارروائیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں امریکا نے ایرانی طلبا اور بےگناہ نوجوانوں کو قتل کیا اور خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے۔قبل ازیں‌ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس چین کے ساتھ ویزا فری نظام کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے صدر پیوٹن اور چینی ہم منصوب شی جن پنگ کی بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس ککے موقع پر ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرین جنگ پر بھی بات چیت کی۔اس موقع پر روسی صدر کا کہنا تھا کہ اگر چین اسے مناسب اور فائدہ مند سمجھتا ہے تو روس دونوں ممالک کے درمیان ویزا فری نظام کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔پیوٹن کا کہنا تھا کہ آج جب دنیا ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال سے گزر رہی ہے، ایسے میں روس اور چین کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون بین الریاستی تعلقات کی ایک بہترین مثال ہے۔یہ تعلقات دوستی، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام، برابری اور باہمی مفاد کی مضبوط روایات پر قائم ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات کی بنیاد آنے والے وقت میں مزید مضبوط ہوگی، تعاون مزید مستحکم ہوگا اور اس شراکت داری کے امکانات بھی پہلے سے زیادہ روشن ہوں گے۔