منی پور میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات، کانگ پوکپی کے 3 گاؤں پر حملہ، 30 مکانات نذر آتش

Wait 5 sec.

منی پور کے حالات بہتر ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایک بار پھر کانگ پوکپی  ضلع میں تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یکم ستمبر صبح سویرے مسلح حملہ آوروں نے 3 لیانگمئی نگا گاؤں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران حملہ آوروں نے 30 سے زیادہ گھروں میں آگ لگا دی۔ اس واقعہ میں ایک مقامی باشندہ گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی اور لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اضافی سیکورٹی فورسز کو موقع پر بھیج دیا گیا۔پولیس کے مطابق حملہ منگل کے روز صبح تقریباً 4 بجے ٹاپون کھلن، ٹاپون کھنو اور ماکوئی پیپورام گاؤں میں ہوا۔ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی اور اس کے بعد کئی گھروں اور دیگر املاک کو نذر آتش کر دیا۔ سیکورٹی فورسز کے موقع پر پہنچنے کے بعد بھی کئی گھنٹے تک وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے ’سنٹرل ریزرو پولیس فورس‘ (سی آر پی ایف) اور اس کی ’کوبرا یونٹ‘ اور منی پور پولیس کے اضافی اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کیا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے گاؤوں اور گردونواح میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ افسران کے مطابق فائرنگ دوپہر تقریباً 12.30 بجے تک جاری تھی۔سیکورٹی فورسز کی ابتدائی جانچ میں کم از کم 30 گھروں کے آگ لگائے جانے یا تباہ کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیاں اور دیگر املاک کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے، اس لیے متاثرہ املاک کی حتمی تعداد بعد میں منظر عام پر آئے گی۔ واضح رہے کہ یہ حملہ پیر کے روز کانگپوکپی کے تیکھانگ کوکی گاؤں میں ہوئی فائرنگ کے ایک دن کے بعد ہوا۔ اس حملے میں 2 خواتین سمیت 3 کوکی شہریوں کی موت ہوئی تھی، جبکہ 4 افراد زخمی ہوئی تھے۔ مسلسل 2 دنوں سے جاری تشدد کے واقعات نے گاؤں کے ماحول کو خراب کر دیا ہے۔’بی جے پی ہی وہ ماچس کی تیلی ہے جس نے منی پور کو جلایا‘، تازہ تشدد کے بعد کھڑگے نے پی ایم مودی پر کیا حملہگزشتہ کچھ دنوں سے امپھال-تامینگلونگ سڑک کے قریب واقع کانگپوکپی اور تامینگلونگ اضلاع میں تشدد اور جوابی حملوں کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ 13 مئی کے بعد مختلف واقعات میں کوکی-جو اور ناگا برادری سے وابستہ کم از کم 17 افراد کی موت ہو چکی ہے۔27 اگست کو ہدف بنا کر کیے گئے حملے میں 4 ناگا شہری مارے گئے تھے۔ وہیں 31 اگست کے واقعہ میں 3 کوکی شہری مارے گئے ہیں۔ مسلسل ہو رہے تشدد کے واقعات کے باوجود اب تک کسی بھی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سیکورٹی فورسز اب حملہ آوروں کی شناخت اور تشدد کے واقعات کی وجہ کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔