3 بچوں کی قاتل ماں لنڈسے کلینسی کیس میں نیا موڑ

Wait 5 sec.

میساچوسٹس : اپنے 3 کمسن بچوں کو قتل کرنے والی ملزمہ لنڈسے کلینسی کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی جیوری مشکلات کا شکار ہوگئی۔جیوری نے گذشتہ روز سماعت کے موقع پر جج کو آگاہ کیا کہ 17 گھنٹے سے زائد غور و خوض کے باوجود وہ کسی متفقہ فیصلے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے، تاہم جج نے ارکان کو مزید غور و خوض جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزمہ لنڈسے کلینسی پر جنوری 2023 میں اپنے تین بچوں، 5 سالہ کورا، 3 سالہ ڈاسن اور 8 ماہ کے کیلن کو قتل کرنے کا الزام ہے۔استغاثہ کے مطابق کلینسی نے میساچوسٹس کے علاقے ڈکسبری میں واقع اپنے گھر میں بچوں کا گلا ورزش میں استعمال ہونے والے بینڈز سے گھونٹ دیا تھا، جس کے بعد اس نے اپنی کلائیاں کاٹیں اور دوسری منزل کی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی تھی۔کلینسی نے بچوں کی ہلاکت میں اپنے کردار سے انکار نہیں کیا، تاہم اس نے خود کو مجرم قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قتل کے وقت وہ ذہنی طور پر درست حالت میں نہیں تھی۔اس کے وکیل کیون ریڈنگٹن نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ادویات کے زیادہ استعمال اور بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہونے والی شدید نفسیاتی کیفیت، یعنی پوسٹ پارٹم سائیکوسس کا شکار تھی۔دوسری جانب استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ملزمہ کلینسی نے بچوں کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے، یہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا وہ اپنے ہر عمل کے نتائج سمجھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔جیوری کے سامنے 5 ممکنہ فیصلےاگرچہ کلینسی پر فرسٹ ڈگری قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جیوری کو 5 ممکنہ نتائج پر غور کرنے کی اجازت ہے۔1  فرسٹ ڈگری قتل :اگر جیوری یہ بات ثابت شدہ سمجھے کہ یہ تمام قتل پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یا انتہائی سنگدلی اور سفاکی سے کیے گئے تو کلینسی کو فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے اس صورت میں اسے عمر قید کا سامنا کرنا ہوگا۔2 سیکنڈ ڈگری قتل :دوسری صورت میں جیوری اسے سیکنڈ ڈگری قتل کا بھی مجرم قرار دے سکتی ہے، اس جرم میں پہلے سے منصوبہ بندی ثابت کرنا ضروری نہیں، تاہم سزا عمر قید ہوسکتی ہے اور اس صورت میں اسے پیرول کی اہلیت حاصل ہوسکتی ہے۔3 قتلِ خطا (Manslaughter) :جیوری اس سے کم درجے کے جرم یعنی قتلِ خطا کا فیصلہ بھی دے سکتی ہے۔ اس صورت میں کلینسی کو ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔4 مجرمانہ ذمہ داری سے عدم اہلیت کی بنیاد پر بریت :اگر جیوری اس کے ذہنی مرض کے دفاع کو تسلیم کرتی ہے تو اسے مجرمانہ ذمہ داری سے عاری قرار دے کر مقدمے سے بری کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کا مطلب فوری طور پر آزادی نہیں ہوگا۔ایسی صورت میں اسے پہلے 40 دن تک ذہنی صحت کے مرکز میں زیرِ مشاہدہ رکھا جاسکتا ہے، اس کے بعد حکام اس کی مزید حراست اور علاج کے لیے 6 ماہ تک کے حکم کی درخواست کرسکتے ہیں۔بعد ازاں اس مدت کا جائزہ لے کر ایک سال تک کی مزید حراست کا حکم دیا جاسکتا ہے اور یہ عمل ضرورت کے مطابق طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔5 مکمل بریت :اس کے علاوہ جیوری ملزمہ کو مکمل طور پر بے گناہ بھی قرار دے سکتی ہے، اگر استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اس نے بچوں کو کسی شک و شبہے سے بالاتر ہوکر قتل کیا ہے۔ تاہم موجودہ مقدمے کی صورتحال میں یہ نتیجہ سب سے کم متوقع قرار دیا جارہا ہے۔جیوری نے منگل یکم ستمبر کو دوبارہ غور و خوض شروع کردیا ہے اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ارکان پانچ ممکنہ نتائج میں سے کس پر متفق ہوتے ہیں؟۔ 3 بچوں کا قتل کس طرح کیا گیا؟ باپ کی گواہی نے سب کو رُلا دیا