تہران: ایرانی جزیرہ لارک پر اچانک امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی وار کرتے ہوئے اردن میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں، پاسداران کی جانب سے اس حملے کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکی بحری جہازوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا، اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل حملے کیے۔پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں سے اردن میں شاہ حسین، الازرق امریکی فضائی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے، حملے میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں کے ٹھکانے اور تکنیکی و دیکھ بھال کا بنیادی ڈھانچا تباہ کر دیا گیا ہے، حملے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔پاسداران نے کہا ایرانی عوام کی 183 راتوں پر محیط تاریخی موجودگی نے دشمن کو حیران کر دیا ہے، مظلوموں میں امید کی کرن جگائی اور مجاہدینِ اسلام کے حوصلوں کو تقویت بخشی۔امریکی فورسز نے ایرانی جزیرے لارک پر بمباری کر دیپاسداران انقلاب کے مطابق امریکی و صہیونی فضائی جارحیت کے جواب میں میزائل اور ڈرون مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا ہے، یہ آپریشن یا محمد ابنِ عبداللہ (ص) کے کوڈ کے ساتھ جارح کو سزا دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے، اور میجر جنرل محبی نے کہا ہے کہ دشمن کو غلط اندازے کی بھاری قیمت معاشی اور عسکری دونوں میدانوں میں چکانا پڑے گی، ٹرمپ انتظامیہ کا حالیہ اقدام اسٹریٹجک اور مہلک غلطی ہے۔انھوں نے کہا ٹرمپ انتظامیہ کی غلطی حالات کا رخ منصوبہ سازوں کے خلاف پلٹ دے گی اور امریکا کو غلطی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ادھر ایرانی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ہماری قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانا آپ کی شکستوں کی قیمت مزید بھاری کر دے گا، کسی بھی سطح پر کیا جانے والا کوئی جرم جواب سے خالی نہیں جاتا۔انھوں نے کہا ایسا جواب دیا جائے گا جو تباہ کن، زیادہ تکلیف دہ اور سبق آموز ہوگا، جو آپ کی ناکامیوں کے سلسلے کو مکمل کر دے گا، خوف اور دہشت کے عالم میں انتظار کرو۔