ایران نے امریکا کے تازہ حملوں کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان کر دیا

Wait 5 sec.

تہران: ایران نے امریکا کے تازہ حملوں کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان کیا ہے, ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایکس پوسٹ میں لکھا ایران وحشیانہ جرائم کا بھرپور جواب دے گا.اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی جرائم پر خاموشی اختیار کرنے والی حکومتیں غیر جانب دار نہیں ہیں، بربریت کو جواز فراہم کرنا جرم کو معمول بنانے کے مترادف ہے، غیر قانونی حملوں کو سیاسی مفاد کے لیے جائز نہیں کیا جانا چاہیے، جرائم کی مذمت اور انھیں معمول بنانے کے درمیان فرق ختم ہو رہا ہے۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کی قوم کے خلاف امریکا کے مظالم کی فہرست اب مکمل ہو چکی ہے: کوہستک، سیرِک میں ایک رہائشی گھر پر آج رات اس وقت وحشیانہ حملہ کیا گیا جب خاندان ایک شادی کی تقریب منا رہے تھے، 50 سے زائد بے گناہ مرد، خواتین اور بچے شہید یا زخمی ہوئے۔انھوں نے کہا اس ظلم کو میناب، لامرد، قشم اور دیگر مقامات پر اس سے پہلے ہونے والے مظالم کے سلسلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ان فوجی اہداف پر کیے گئے حملوں سے جنھیں گمراہ کن جواز پیش کر کے درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔امریکا نے شادی کی تقریب کو نشانہ بنا دیا، ایرانی میڈیا (ویڈیو)اسماعیل بقائی نے لکھا بم سے بھی زیادہ خطرناک بمباری کو معمول بنا دینا ہے؛ اور خاموشی سے بھی زیادہ خطرناک خاموشی کو جواز میں تبدیل کر دینا ہے۔ ایران ان وحشیانہ جرائم کا بھرپور عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ جواب دے گا۔ تاہم، وہ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے جو ایسی بربریت کے سامنے خاموش رہتے ہیں، یا ایسے اقدامات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انھیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی خاموشی غیر جانب داری نہیں ہے۔انھوں نے کہا جب سیاسی مصلحت کی خاطر غیر قانونی حملوں اور وحشیانہ جرائم پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو جرم کی مذمت کرنے اور اسے معمول کا حصہ بنانے کے درمیان موجود لکیر مٹ جاتی ہے۔ جو لوگ آج خاموش رہیں گے، وہ کل اس کے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ناانصافی سے آنکھیں چرا لینا اسے محدود نہیں کرتا؛ بلکہ صرف مجرموں کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔