’ہوم منسٹر ایوان میں آؤ‘، اپوزیشن کے نعروں سے حکومت پریشان، پارلیمنٹ کی کارروائی پیر تک ملتوی

Wait 5 sec.

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی آج ایک بار پھر ہنگامے کی نذر ہو گئی۔ پہلے راجیہ سبھا کی کارروائی پیر تک کے لیے ملتوی کی گئی، اور پھر لوک سبھا کی کارروائی پیر کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر حاضری پر اعتراض ظاہر کر رہے تھے، اور انھیں ایوان میں پہنچ کر طلبا پر ہوئی بربریت سے متعلق جواب دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ’ہوم منسٹر ایوان میں آؤ‘، ’چندہ چور، گدی چھوڑ‘ جیسے نعروں کے درمیان لوک سبھا میں بغیر بحث کے ہی ایم ایس ایم ای ترمیمی بل کو پاس کر دیا گیا، اور پھر ایوان زیریں کی کارروائی بھی ملتوی ہو گئی۔Lok Sabha proceedings adjourned till 11 am on August 10. pic.twitter.com/kqw0kXypzP— News Arena India (@NewsArenaIndia) August 7, 2026اس سے قبل اپوزیشن لیڈران کی نعرہ بازی اور امت شاہ کی حاضری کے مطالبہ پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پارلیمنٹ میں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے ایوانِ زیریں میں کہا کہ ’’امت شاہ صبح صبح پارلیمنٹ میں آتے ہیں، دیر رات واپس جاتے ہیں۔ یہ نعرہ لگانے کا غلط طریقہ ہے۔ وزیر داخلہ وہ انسان ہیں جن کا نام سن کر دہشت گرد، شورش پسند کانپ اٹھتے ہیں۔ جس دن امت شاہ کا یہاں جواب ہوگا، آپ سن نہیں پائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اصول کے تحت جس کا بزنس ہوتا ہے، اسی سے متعلق وزیر کو ایوان میں جواب دینے آنا ہوتا ہے۔ آپ یہ طے نہیں کر سکتے کہ انھیں (امت شاہ کو) کب آنا ہے۔ آپ ایوان کو ڈسٹرب کر رہے ہیں۔‘‘ حالانکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مسلسل طلبا پر ہوئی بربریت سے متعلق امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کرتے رہے۔Rajya Sabha proceedings adjourned till 11 am on August 10 amid repeated disruptions by Opposition. pic.twitter.com/QsxJMukK9f— News Arena India (@NewsArenaIndia) August 7, 2026اس درمیان کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال امت شاہ کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری کا ایک بورڈ میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے جو بورڈ لیا ہوا تھا، اس میں 21 جولائی سے 6 اگست تک امت شاہ کے غیر حاضر ہونے کی جانکاری دی گئی تھی، اور 7 اگست کے سامنے سوالیہ نشان لگا ہوا تھا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’ہمارے وزیر داخلہ لوک سبھا اور پارلیمنٹ، دونوں سے غیر حاضر ہیں۔ وہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’انہیں پارلیمنٹ میں آ کر وضاحت کرنی چاہیے کہ طلبا پر پیلیٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ آنسو گیس کے گولے استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا؟ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟ پورا ملک اور طلبا ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں، لیکن وزیر داخلہ مکمل طور پر غیر حاضر ہیں۔‘‘⦿ Our Home Minister is absent from both the Lok Sabha and Parliament. Why is he running away from Parliament?⦿ He should come and explain: Who ordered the pellet gun firing against students? Who ordered the use of tear gas shells? Who ordered the use of AK-47s?⦿… pic.twitter.com/anLEfLchkL— Congress (@INCIndia) August 7, 2026کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’ہم نے لوک سبھا کے اسپیکر سے بھی درخواست کی کہ وہ پارلیمانی امور کے وزیر کو ہدایت دیں کہ وہ اپوزیشن کا پیغام وزیر داخلہ تک پہنچائیں۔ لیکن ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جب مانسون اجلاس کے اختتام میں صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں تو امت شاہ پارلیمنٹ کیوں نہیں آ رہے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ طلبا جو مسائل اٹھا رہے ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ ایسے میں ان کے خلاف دہلی پولیس نے کارروائی کی، اس بارے میں امت شاہ کو وضاحت پیش کرنی ہی چاہیے۔Opposition leaders staged a protest inside the Parliament premises over Ayodhya Ram Mandir chanda chori and brutality against students. New Delhi pic.twitter.com/qtwya38XfC— Congress (@INCIndia) August 7, 2026اس سے قبل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے گزشتہ دنوں کی طرح آج بھی پارلیمانی احاطہ میں امت شاہ کے خلاف پوسٹرز اور بینرز کے ساتھ دھرنا و مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ 20 جولائی کو طلبا مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی اور ایودھیا واقع رام مندر میں مبینہ چندہ چوری معاملہ پر کیا گیا۔ مظاہرین میں انڈیا بلاک کے تقریباً سبھی اراکین پارلیمنٹ موجود تھے، جو بارش میں بھیگتے ہوئے ’امت شاہ جواب دو‘ کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔