16 سال کا اقبال گزشتہ 5 سال سے تالاب میں رہنے کو مجبور ہے۔ اسے ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج اسے نہیں مل رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پانی سے باہر آتے ہی وہ مر جائے گا۔ دراصل اس کے جسم میں جان لیوا جلن ہے، جو پانی سے باہر آتے ہی اسے تڑپا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرشدآباد کے بیلڈانگا میں رہنے والا 16 سال کا اقبال شیخ گزشتہ تقریباً 5 سال سے اپنا گھر چھوڑ کر تالاب کے پانی میں رہ رہا ہے۔جس عمر میں بچے اسکول جاتے ہیں ار کھیلتے-کودتے ہیں اس عمر میں اقبال گھنٹوں تک تالاب میں تیرتا رہتا ہے۔ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر وہ کچھ لمحے کے لیے بھی پانی سے نکلتا ہے اس کا جسم جلنے لگتا ہے۔ وہ صرف 5-4 گھنٹے نہیں، بلکہ پورے ہفتے پانی کے اندر ہی رہتا ہے۔ اقبال اپنے ساتھ ہونے والی اس پریشانی کے پیچھے کسی جادو کا اثر بتاتا ہے۔ حالانکہ اقبال کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 24 گھنٹے پانی میں رہنے کی وجہ سے اقبال کے ہاتھ، پیر اور پورے جسم کی جلد گل کر سفید پڑ چکی ہے۔ دن و رات پانی میں رہنے کی وجہ سے اسے سردی-کھانسی کی شکایت بھی رہنے لگی ہے۔ جس پانی سے ایک طرف اس کو راحت مل رہی ہیں، دوسری طرف وہی اس کے لیے مصیبت بھی بن رہی ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ پانی سے تھوڑی دیر بھی باہر نہیں رہ سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اقبال کی خبر آہستہ آہستہ آس پاس کے علاقوں میں پھیل چکی ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں، تالاب کے باہر بھیڑ اکٹھی رہتی ہے۔ کئی لوگ اسے کھانے پینے کے لیے چوڑا (پوہا) یا بسکٹ دے دیتے ہیں، جسے کھا کر وہ تالاب میں اپنی بھوک مٹاتا ہے۔ مقامی لوگوں نے اسے علاج کرانے کا مشورہ دیا، وہ مقامی بلاک پرائمری ہیلتھ سنٹر گیا لیکن اس کو کوئی حل نہیں ملا۔ اقبال کا کہنا ہے کہ اس کے گھر کی مالی حالت اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ پرائیویٹ اسپتال میں جا کر علاج کرا سکے۔ گورنمنٹ ہیلتھ سنٹر میں بھی اس کو کچھ خاص راحت نہیں ملی، اس لیے وہ تالاب کے اندر ہی رہتا ہے۔ کئی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک یہ 16 سال کا لڑکا پانی میں رہے گا۔ حالانکہ کچھ مقامی افراد اب اس کی مدد کے لیے چندہ اکٹھا کر رہے ہیں، دوسری طرف انتظامیہ سے بھی اس کے علاج کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔