واشنگٹن (08 اگست 2026): یورپ میں امریکی فوجی آپریشنز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل چارلس کوسٹانزا کو اچانک ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، برطرفی کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق جنرل چارلس کوسٹانزا کے عہدے کی مدت 2 ماہ بعد ختم ہونا تھی اور ان کی جگہ میجر جنرل تھامس فیلٹی کو لیا جانا ہے، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ امریکی فوج میں اعلیٰ سطح پر بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر رہے ہیں۔جنرل کوسٹانزا یورپ میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے پینٹاگون کے اعلیٰ ترین جنرلوں میں سے ایک ہیں، امریکی فوج نے جمعے کے روز ان کے کمان سے ہٹائے جانے کی تصدیق کی۔فوج کے ایک ترجمان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل چارلس کوسٹانزا امریکی فوج کی V کور کے کمانڈر تھے۔ انھیں ہٹائے جانے کے حالات تاحال واضح نہیں ہیں۔ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں 2 درجن سے زائد اعلیٰ عہدے داروں کو ہٹایا یا ان کے اختیارات محدود کیے جا چکے ہیں، اور اکثر اوقات اس کی کوئی عوامی وضاحت نہیں کی گئی۔ٹرمپ کے اعلیٰ ترین جنرل نے ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ دے دیاتاہم، اے بی سی نیوز کے مطابق کوسٹانزا کو ہٹائے جانے کے معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا ہیگسیتھ کی جانب سے فوج کی اعلیٰ قیادت کو وسیع پیمانے پر ازسرِنو تشکیل دینے کی کوشش سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی سیاسی مضمرات کی وجہ سے ہوا۔کوسٹانزا کی جگہ میجر جنرل تھامس فیلٹی لیں گے، جن کی اس قیادت کی منتقلی کے لیے پہلے ہی سینیٹ سے منظوری حاصل کی جا چکی ہے اور جو اکتوبر میں طے شدہ تھی۔