’پنجاب کی عآپ حکومت اعداد و شمار کی سیاست میں مصروف‘، نوکریوں کے دعووں پر کانگریس کا حملہ، وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ

Wait 5 sec.

چنڈی گڑھ: پنجاب میں سرکاری ملازمتوں کے دعووں، بھرتی کے عمل اور امتحانی نظام کی شفافیت کو لے کر کانگریس نے عام آدمی پارٹی (عآپ) حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پنجاب کانگریس کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمتوں سے متعلق اپنے تمام دعووں کی حقیقت عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک مفصل وائٹ پیپر جاری کرے۔کانگریس کے رکن اسمبلی رانا گرجیت سنگھ نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی پنجاب کے عوام کے مفاد میں احتجاج کر رہی ہے کیونکہ ریاستی حکومت صرف اعداد و شمار کی سیاست کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت 68 ہزار سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ ان میں کتنی نئی تقرریاں ہیں اور کتنی صرف ریٹائرمنٹ یا ملازمین کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ رانا گرجیت سنگھ نے کہا کہ ان تمام سوالات کا جواب صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے جب حکومت ملازمتوں اور بھرتیوں کی مکمل تفصیلات پر مبنی وائٹ پیپر جاری کرے۔ ان کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ حکومت کے دعووں میں حقیقت کتنی ہے۔راہل گاندھی کی جانب سے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو اپنا پسندیدہ بی جے پی رہنما قرار دینے کے سوال پر رانا گرجیت سنگھ نے کہا کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن امریندر سنگھ ان کے بھی پسندیدہ رہنما ہیں اور وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب کیپٹن امریندر سنگھ بیماری اور سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر واپس آئے تو راہل گاندھی نے ان کی خیریت دریافت کی، جبکہ بی جے پی نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے بی جے پی پر ’استعمال کرو اور چھوڑ دو‘ کی سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔کانگریس کے ایک اور رکن اسمبلی پرگٹ سنگھ نے بھی حکومت کے روزگار سے متعلق دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہر سال تقریباً 10 سے 12 ہزار سرکاری ملازمین ریٹائر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس گزشتہ پانچ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کی فہرست فراہم کر سکتی ہے، مگر حکومت بارہا مطالبے کے باوجود نئی بھرتیوں کی مکمل فہرست پیش نہیں کر سکی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ کن عہدوں پر کتنی تقرریاں ہوئیں اور ان میں کتنی واقعی نئی بھرتیاں تھیں۔پنجاب کانگریس قانون ساز پارٹی کی نائب لیڈر ارونا چودھری نے امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیپر لیک اور نقل کے واقعات کو الگ الگ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اگر بلوٹوتھ یا کسی دوسرے ذریعے سے امتحانی سوالات یا جوابات امیدواروں تک پہنچ رہے ہیں تو یہ واضح طور پر پیپر لیک کا معاملہ ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ 65 سے 68 ہزار سرکاری ملازمتیں دینے کا دعویٰ کر رہی ہے تو ہر تقرری کی مکمل تفصیل، امیدوار کا ضلع، عہدہ اور بھرتی کا ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ بھرتی کے عمل میں شفافیت اور حکومت کے دعووں کی حقیقت واضح ہو سکے۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت کو جلد از جلد مفصل وائٹ پیپر جاری کرنا چاہیے۔