لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے امریکہ میں اڈانی کے خلاف کیس بند ہونے پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس معاملہ میں بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو خاص طور سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاملے میں جتنا دکھائی دے رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایک ’سمجھوتہ کر چکے وزیر اعظم‘ کو ہندوستان کے مفادات بیچنے پر مجبور کیا گیا۔ ہندوستان کو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔There is much more to this than meets the eye.A compromised PM was forced to sell India’s interest. India is paying a huge price. pic.twitter.com/rWt37dYxwx— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 12, 2026راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکی عدالت کے اس فیصلے سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ کا اسکرین شاٹ شیئر بھی کیا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف الزامات خارج کرنے کی درخواست کو عدالت نے منظور کر لیا ہے۔ دراصل امریکی وفاقی عدالت کے جج نے حال ہی میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات کو مستقل طور پر خارج کر دیا تھا۔ اس سے بندرگاہ سے لے کر توانائی کے شعبے تک کام کرنے والے اڈانی گروپ پر تقریباً دو سال سے بنا قانونی دباؤ ختم ہو گیا۔ نیویارک کے مشرقی ضلع کے جج نکولس گاراؤفس نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے الزامات خارج کرنے کی درخواست منظور کی۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد اڈانی نے امریکی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے ’عاجزی‘ اور عدالتی عمل کے تئیں ’گہرے احترام‘ کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ 10 اگست کو جج گاراؤفس نے 47 صفحات پر مشتمل یہ حکم جاری کیا۔ اس میں انہوں نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے الزامات خارج کرنے کی درخواست منظور کی۔ یہ درخواست گوتم اڈانی، ساگر اڈانی اور اڈانی گرین انرجی کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ونیت جین سے متعلق معاملے میں کی گئی تھی۔ ان کے خلاف 3 الزامات خارج کیے گئے۔ ان میں سیکورٹیز فراڈ کی سازش، وائر فراڈ کی سازش اور سیکورٹیز فراڈ کے الزامات بھی شامل تھے۔ ان الزامات کو مستقل طور پر خارج کیا گیا ہے۔ یعنی انہی الزامات کو دوبارہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جج گاراؤفس نے اس معاملہ میں دو الزامات پر ابھی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ پہلی دفعہ میں غیر ملکی بدعنوان طرز عمل ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ پانچویں دفعہ میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کا الزام ہے۔ یہ دونوں الزامات ہندوستان میں رہنے والے پانچ شریک ملزمان سے متعلق ہیں۔ یہ ملزمان اب تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔ ان میں رنجیت گپتا، سیرل کیبنس، سوربھ اگروال، دیپک ملہوترا اور روپیش اگروال شامل ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کو عدالت کی شرائط پوری کرنے کے لیے 31 اگست تک کا وقت دیا گیا ہے۔ وہیں، عدالت میں پیش نہ ہونے والے ملزمان کے وکلا کو بھی اسی تاریخ تک تصدیق کرنی ہوگی کہ ان کے موکل الزامات خارج کیے جانے پر متفق ہیں۔جج نے واضح کیا کہ الزامات خارج کرنا استغاثہ کی جانب سے اپنے اختیار کے استعمال کا فیصلہ ہے۔ یہ الزامات پر عدالت کا فیصلہ نہیں ہے۔ گاراؤفس نے اپنے حکم میں لکھا کہ کسی کو بھی اس فیصلے کو حکومت کے فیصلے سے عدالت کی رضامندی یا الزامات کی سچائی پر عدالت کی رائے نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس معاملے میں کوئی مقدمہ نہیں چلا۔ کسی گواہ سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ عدالت میں شواہد کی جانچ بھی نہیں ہوئی۔ اڈانی گروپ نے ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے نافذ قوانین کے مطابق ہی کام کیا ہے۔