امریکا میں پہلی بار پونے دو لاکھ ویزے منسوخ، وجہ کیا بنی ؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت ہزاروں افراد کے سفری اور امیگریشن حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں۔محکمہ خارجہ کے مطابق ویزے ان غیرملکی شہریوں کے منسوخ کیے گئے جنہوں نے ویزا شرائط کی خلاف ورزی کی، جرائم میں ملوث رہے، امریکی شہریوں کے خلاف تشدد پر اکسایا، امریکی شہریوں سے فراڈ کیا، امیگریشن نظام کا غلط استعمال کیا یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔حکام کے مطابق زیادہ تر ویزے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق واقعات کے بعد منسوخ کیے گئے۔ ان میں حملہ، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، چوری اور منشیات سے متعلق جرائم نمایاں وجوہات تھیں۔محکمہ خارجہ نے بعض مخصوص کیسز کا بھی حوالہ دیا، جن میں ایک شخص پر سنگین نوعیت کے ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات، دوسرے پر اغوا اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات جبکہ ایک اور شخص پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کے درجن سے زائد الزامات شامل تھے۔محکمہ خارجہ کے مطابق شمالی افریقہ میں ایک امریکی سفارت خانے نے ایسے والدین کے 100 سے زائد ویزے بھی منسوخ کیے جو مبینہ طور پر بنیادی طور پر امریکا میں بچے کی پیدائش کے لیے سفر کرنا چاہتے تھے تاکہ بچے کو امریکی شہریت مل سکے۔یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے رواں سال جنوری میں بھی ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، جو اس وقت ایک ریکارڈ تعداد تھی۔ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کر دی ہے۔ ویزا درخواستوں کے لیے سوشل میڈیا کی جانچ میں اضافہ اور دیگر سیکیورٹی اسکریننگ کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔