ڈابر کو عبوری راحت: دہلی ہائی کورٹ نے ایف ایس ایس اے آئی کے پابندی والے حکم پر لگائی روک

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ڈابر انڈیا لمیٹڈ کو عبوری راحت دیتے ہوئے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے اس حکم پر عبوری روک لگا دی، جس کے تحت کمپنی کو بعض غذائی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان مصنوعات پر ’100 فیصد‘ جیسے دعوے درج ہونے پر فوڈ ریگولیٹر نے اعتراض کیا تھا۔جسٹس امت مہاجن پر مشتمل یک رکنی بنچ نے کہا کہ بادی النظر میں ایسا پابندی والا حکم کمپنی کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر جاری نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ اگلی سماعت تک متنازعہ حکم پر عمل درآمد روک دیا جائے۔عدالت نے ڈابر انڈیا کی عرضی پر مرکز اور ایف ایس ایس اے آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 24 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔ ڈابر نے ایف ایس ایس اے آئی کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں کمپنی کو بعض مخصوص غذائی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ریگولیٹر نے ان مصنوعات پر درج ’100 فیصد قدرتی‘، ’100 فیصد خالص‘، ’100 فیصد خالص ہونے کی ضمانت‘، ’100 فیصد آرگینک‘ اور ’100 فیصد ٹینڈر ناریل پانی‘ جیسے دعوؤں پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔سماعت کے دوران ڈابر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کئی دہائیوں سے یہ مصنوعات فروخت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس افسر نے پابندی کا حکم جاری کیا، اسے اس نوعیت کا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔کمپنی کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ تو کوئی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی کمپنی کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔دوسری جانب ایف ایس ایس اے آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے مستقل وکیل آشیش دکشت نے ریگولیٹر کی کارروائی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی کا حکم جاری کرنے سے پہلے کمپنی کو اصلاحی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد ہی کارروائی عمل میں لائی گئی۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ پہلی نظر میں ڈابر کا مقدمہ قابل غور معلوم ہوتا ہے، اس لیے اگلی سماعت تک ایف ایس ایس اے آئی کے حکم پر عمل درآمد روکنا مناسب ہوگا۔ واضح رہے کہ ایف ایس ایس اے آئی کا موقف ہے کہ ڈابر کی بعض مصنوعات پر ’100 فیصد‘ جیسے دعوے مبہم، ناقابل تصدیق اور صارفین کو گمراہ کرنے والے ہیں، جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز، 2018 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ریگولیٹر نے ڈابر ہمالین آرگینک ایپل سائڈر ونیگر اور ڈابر آرگینک شہد پر ’بھارتیہ آرگینک‘ لوگو کے استعمال پر بھی اعتراض کیا تھا۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ان مصنوعات کے پاس آرگینک غذائی مصنوعات سے متعلق مطلوبہ منظوری موجود نہیں تھی، جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (آرگینک فوڈ) ریگولیشنز، 2017 کی خلاف ورزی ہے۔