نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر موسمی اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کر دیا جائے تو دہلی کی حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق بظاہر ہوا صاف دکھائی دینے کی بڑی وجہ بارش اور دیگر موسمی عوامل ہیں، جبکہ اصل آلودگی میں کمی نہیں آئی۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ 6 اگست سے 7 اگست تک کے اعداد و شمار کا موازنہ گزشتہ سال 31 جولائی سے 14 اگست کے اوسط اعداد و شمار سے کرنے پر حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 68 ریکارڈ کیا گیا، جو کاغذ پر اطمینان بخش زمرے میں آتا ہے، لیکن موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد یہی اے کیو آئی بڑھ کر 95 ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں حقیقی اے کیو آئی 12 پوائنٹس زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور نظر آنے والی بہتری صرف موسم کی وجہ سے ہے۔اجے ماکن نے کہا کہ دہلی میں پی ایم 10 کی حقیقی سطح مسلسل 69 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی سے اب تک دستیاب اعداد و شمار میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب پی ایم 10 گزشتہ سال کی سطح سے نیچے ریکارڈ کیا گیا ہو، جبکہ ایک دن کے اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان 69 دنوں کے دوران پی ایم 10 میں اوسط فرق 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہا، جبکہ رواں سال کے 218 دنوں میں سے 145 دن ایسے رہے جن میں یہ سطح گزشتہ سال سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کے اعداد و شمار رکھنے والے تمام 29 فضائی نگرانی مراکز موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد گزشتہ سال سے زیادہ آلودہ پائے گئے اور اوسطاً اے کیو آئی میں 13 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اجے ماکن نے مزید کہا کہ اس روز 43 میں سے 22 فضائی نگرانی مراکز پر کاربن مونو آکسائیڈ سب سے بڑا آلودہ عنصر رہا اور اس کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کا موجودہ تجزیہ بنیادی طور پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے قابل اعتماد اعداد و شمار پر مبنی ہے۔दिल्ली की हवा। आज का सच हर बार एक ही जवाब मिलता है, 'बारिश हुई थी, इसलिए हवा साफ़ थी'। तो हम आँकड़ों से मौसम का पूरा असर निकाल देते हैं, इसे de-weathering कहते हैं। उसके बाद भी दिल्ली का AQI पिछले साल से 12 अंक ऊपर बैठता है।• शहर AQI 68, ‘संतोषजनक’ (population weighted 72)… pic.twitter.com/NZT62CcjsH— Ajay Maken (@ajaymaken) August 7, 2026انہوں نے بتایا کہ 40 میں سے 36 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی دہلی میں پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے 2.3 گنا زیادہ ہے۔ اجے ماکن کے مطابق وزیرپور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد اے کیو آئی 132 اور پی ایم 10 کی سطح 147 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 3.3 گنا زیادہ ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی دھول، سڑکوں کی گرد، صنعتوں، گاڑیوں اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے ذرائع پر فوری کارروائی کی جائے، وزیرپور میں مقامی سطح پر صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے اور عالمی ادارۂ صحت کے معیارات کے مطابق اے کیو آئی کے اہداف مزید سخت کیے جائیں۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘‘